نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 65 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 65

کیا ہماری کتاب عام پسند ہو گی؟ ابی اللہ عن تصحیح غیر کتابہ وکل کتاب غیرہ زل کاتبہٖ الٰہی کتابیں بھی اب تک عام پسند نہیں۔لاہور جیسے دارالسلطنت شہر میں کوئی قرآن کریم اب تک پوری صحت کے ساتھ طبع نہیں ہوا۔نہ کوئی اعلیٰ علمی کتاب جو الکتاب قرآن کی خادم ہو طبع ہوئی۔اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ عام پسندیدگی کا کیا حال ہے اور یہ امر کسی مامور و مجدد دین کو بھی نصیب نہیں ہوا کہ اس کی محنت و کاروائی عام پسند ہوئی ہو۔کیا یہ امر صحیح نہیں کہ ہزاروں ہیں جو مذہبی باتوں کو جنون یقین کرتے ہیں گو ہمیشہ خائب و خاسر ہیں اور مذہبی مقتداؤں میں تو وہ بھی ہے جس کو کہا گیا۔صلّی اللّہ علیک وسلم۔۔۔۔۔۔ (القلم:۱تا۷) دوات اور قلم اور وہ عظیم الشان صداقتیں جن کو لوگ لکھتے ہیں اور لکھتے رہیں گے (ان کے مطالعہ کا نتیجہ تو یہی ہو گا)کہ تو اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں کیونکہ وہ تمام تحریریں تیری صداقت کی گواہ رہیں گی اور دوسری دلیل یہ ہے کہ تیری محنت و کوشش کا بدلہ۔اجر۔اس کی مزدوری تیرے لئے غیر منقطع ابدی ہے اور ظاہر ہے کہ مجنون کی محنت وکوشش کا تو کوئی اجر ہی نہیں ہوا کرتا۔تیسری دلیل یہ ہے کہ مجنون تو خلیق نہیں ہوتے اور توخلق پر کیا خلق عظیم پر ہے۔آپ کی مقناطیسی جذب اور آپ کے اخلاق ہی تھے کہ اڑب عرب آپ کے حکم پر اپنے خون کو پانی کی طرح بہاتے تھے اور چوتھی دلیل یہ ہے کہ مجنون کے افعال و اقوال مثمر ثمرات خیر اور منتج کسی نیک نتیجہ کے نہیں ہوا کرتے اور تیرے اقوال اور تیرے افعال کا نتیجہ تو بھی دیکھ لے گا اور دوسرے لوگ بھی دیکھ لیں گے اور یہ کیسی سچی پیشگوئی نکلی۔دنیا میں صرف آپ ہی اکیلے ایسے کامیاب ہوئے