نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 54
جہاد کی میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں خاص کرتاہوں۔جہاد کے لئے اور جس طرح ہوا بادلوں کو متفرق کر دیتی ہے اور سورج ہر شئے کا سَت کھینچتا ہے ویسے ہی تو بھی ہر شے کا سَت پی۔باب۳۷ (جب ہر شے کا سَت پیا تو حرام و حلال کی تمیز کہاں رہی)اے راجا ! آگ کی مانند دشمنوں کو جلانے والے باب۱۳ منتر۱۱۔اے اقبال مندراجا! تو سعادت مندی حاصل کراپنے ہم مذہبوں کے لئے سکھ پھیلا اپنے مذہب کے مخالفوں کو بھسم کر ڈال جو ہمارے دشمنوں کی حمایت کرتاہے اس کو نیچے کی طرف سوکھی لکڑی کی طرح ادھر جلا کہ جدھر سے اس کی ہوا بھی نہ آوے۔باب ۱۳ منتر ۱۲۔اے بُروںکو رلانے اور دشمنوں کو مارنے والے غصہ ور مجاہد تجھے بجر اور روزی حاصل ہو۔تیرے ہاتھ سے دشمنوں کو بجر لگے۔باب ۱۶منتر۱۔اے لوگو ! جو ہمارے دشمن لوگ ہیں وے دور ہوں۔ان دشمنوں کو ہم ہوا اور بجلی کے ہتھیاروں اوزاروں سے جیسے ہم رنج دیں ویسے ہی تم لوگ ان کو رنج پہنچاؤ اور میری خدمت کرو۔باب ۳۳منتر۴۹۔اے سپہ سالار تو اپنے ہاتھ سے تیروں کو کمان کی چانپ میں لگا اور زور سے دشمنوں پر چلا۔باب ۱۶ منتر۹۔اے انسانوں جو بے حساب طرح کی عقل والا راجا ہے جس سے بے حساب جانیں پرورش پاتی ہیں۔ایسے ہتھیار اوزار جیسے بادلوں کو کاٹنے والا سورج بادل کاٹتا ہے ویسے ہی وہ بڑی دولت اور دنیا حاصل کرنے کے لئے دشمنوں کو مارتا ہے اور تمہارے لئے دولت غلہ ومال و اسباب حاصل کرتاہے اس کا تم ستکار کرو۔باب۳۳ منتر۹۶ (یجر وید کے منتر تمام ہوئے) راج سبہا اور رعیت پر واجب ہے کہ پرمیشور کو اور سبہا دہکش (میر مجلس)کو راجا سمجھیں اور میر مجلس کے جھنڈے تلے جُدہْ میں مَیں آکر شامل ہوں۔فوج کے بہادر جوان بھی پرمیشور اور میر مجلس اور سپہ سالار کے زیر حکم رہ کر جُدھ کریں (اتھر وید کانڈ۱۵۔انواک ۲۔واگ ۹منتر۲)پرمیشور قتل عام کا حکم فرماتا ہے اس طرح پر کہ اے دشمنوں کو مارنے والے جنگ کے قواعد سے پورے پورے ماہر بے خوف و بے ہراس بڑے جاہ وجلال والے میرے پیارے جوانمردو ! تم سب اپنی رعیت کو ۱۔لوگوں کا خون پی لو۔۲۔مذہب کے مخالفوں کو بھسم کر ڈال۔۳۔ایسے جلاؤ کہ ہوا بھی نہ آوے۔۴۔دنیا کے لئے جنگ