نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 44 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 44

داخل فرماتا ہے وہ ایک باغ ہے بہشتوں کے باغوں سے جیسے فرمایا ہمارے نبی کریم ﷺ نے القبر روضۃ من ریاض الجنۃ یا وہ گڑھا ہے دوزخ کے گڑھوں سے جیسے فرمایا: او حفرۃ من حفر النیران اور قرآن کریم میں بارہا ذکر ہوا ہے کہ مومن اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے والا بعد الموت معاً جنت میں داخل ہو جاتاہے اور شریر نار میں جیسے فرمایا: (یٰسٓ :۲۷،۲۸) اور منکروں اور شریروں کے لئے فرمایا گیا ہے مثلاً فرعون اور فرعون کے ہمراہیوں کیلئے۔(نوح : ۲۶) ہاں حشر اجساد کے وقت آخر عظیم الشان تفرقہ سعید وشقی میں کر دیا جائے گا اسی واسطے اس دن کا نام یوم الفصل آیا ہے۔پارہ ۳۰کی پہلی سورۃ مگر وہ حالت سردست جنت ونار کے دخول کی مانع نہیں۔حضرت امام علیہ السلام نے تقریر جلسہ اعظم مذاہب میں تقریر مفصل کی ہے جو قابل دید ہے۔اللہ تعالیٰ توفیق فہم دے۔نمبر۳۔کفر پر اعتراض کیاہے کہ اسلام مخالفوں کو کافر کیوںکہتاہے بلکہ لکھاہے کہ جو معقول پسندہے اسلام میں وہ کافر ہے۔پس اس کا پہلا جواب تو یہ ہے لعنۃ اللہ علی الکاذبین۔دوسرا جواب ہے مثلاً ہم روح کو (نفسِ جان)ازلی غیر مخلوق نہ ماننے کے باعث آریہ کے اس قول کے منکرہیں مثلاً میں مادہ عالم کے غیر مخلوق ماننے کا کافر۔تناسخ کا کافر ہوں۔برہموں انبیاء و رسل کے کافر ہیں۔تم لوگ وحدہ لاشریک خالق کل شئی۔مرسل آدم ؑ وابراہیم ،ؑ موسیٰ ؑ وخاتم الانبیاء کے کافر ہو۔مسیحی وحدہ لاشریک کے کافر ہیں۔کافر کے معنی منکر کے ہیں جو کوئی کسی بات کا منکرہے اس کا کافرہے اس پر اعتراض کیا ہے ؟دیکھو صفحہ نمبر۳۳۸ یا آخر کتاب میں لطیفہ تیسرا اعتراض کیا ہوا۔نمبر۴۔شرک پر اعتراض۔شرک کے معنی ہیں ساجھی کرنا۔جس نے اللہ تعالیٰ کی عبادت و تعظیم میں کسی غیر کو اللہ تعالیٰ کا ساجھی بنایا وہ مشرک ہوا جس نے ھُوَ الْاَوَّلُ میں مادہ عالم کو، نفوس