نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 36 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 36

ذات سے۔اور دور لازم آتا ہے)کیا آسمانوں اور زمینوں کے یہ خالق ہیں؟یہ صریح غلط ہے اور اس سے تعداد آلہ بھی لازم آتا ہے۔کیا ان کے پاس بے انت خزانے ہیں؟ جن سے ان کو پتہ لگا کہ یہ چیز مثلاً ارواح یا فلاں اشیاء مادہ وزمانہ وغیرہ غیر مخلوق نہیں۔نفس انسانی تو محدود ہے۔خدا کی بے انت باتوں کا احاطہ کیونکر کر سکتا ہے۔کیا یہ آزاد ہیں اور کسی کے تحت و تصرف میں نہیں؟ یہ بات مشاہدہ کے خلاف ہے انسان کھانے پینے جننے مرنے سب میں کسی کے نیچے ہے اور کسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔پس جب یہ باتیں غلط ہیں تو خدا سب اشیاء کا خالق ہے۔(۴) قیاس اقترانی سے فرمایا:(الحشر :۲۵)اللہ تعالیٰ ہے اندازہ کرنے والا(خلق کے معنے لغت عرب میں تقدیر کے بھی آئے ہیں اسی واسطے(البقرۃ :۳۰) بلفظ ماضی صحیح ہے) وجود بخشنے والا اور رنگ برنگ صورتیں عطا کرنے والا۔تمام صفات کاملہ سے موصوف تمام نقصوں سے منزہ۔نیست سے ہست کرنے والا کیونکہ یہ ایک کمال ہے اور خدا کو سب کمالات حاصل ہیں۔خدا کو انسان اپنے پر قیاس نہ کرے کیونکہ انوپیم لیس کمثلہ ہے۔غرض اس طرح کہ دلائل کا سمندر قرآن کریم میں موج مارتا نظر آتا ہے۔ایک آیت   (البقرۃ :۱۶۴،۱۶۵) پر اور اکیس پارہ کے رکوع میں من ایاتہ وغیرہ میں کوئی نظر کرنے والا نظر کرے۔پہلی آیت کا ذکر تعلیم اسلام فقرہ نمبر۲ میں ہے۔پھر پیدائش کے اقسام قرآن کریم میں بتائے گئے ہیں مثلاً وہ خلق جو بدون وسائط بنائی جیسے فرمایا:(الانعام :۱۰۲) اور اوّل انسان کی نسبت فرمایا: خلقت بیدی اور مثلاً وہ مخلوق جس میں ملائکہ کو مظاہر قدرت بنایا ہے جیسے فرمایا:  ِ(الرعد :۱۲)    (آل عمران :۱۲۶)  (النّازعات :۶)(المرسلات :۲)؎ مٹی سے۔پانی ملی مٹی سے۔متغیرگارے سے پھر معتدل سے پھر بولنے والے پھر پکے ہوئے بولنے والے مادے سے۔۲؎ خلاصہ۔پانی ملا۔تھوڑے سے مادہ سے ہو جونک یا خون کی طرح تھاپھر اتنا بڑا ہوا جتنا چبانے کا لقمہ یا اس جیسا پھر بڑھا او ر اس پر گوشت چڑھا پھر بولتا چالتا بچہ بن گیا۔