نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 335 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 335

جناب ہاجرہ علیھا السلام کو ایک بڑا ابتلا پیش آیا جس کا اشارہ ان باتوں سے ہوا۔  (البقرۃ :۱۵۶)اور انعام دیں گے ہم تم کو بدلہ میں تھوڑے سے خوف اور بھوک اور مالوں کی کمی اور جانوں کے اور پھلوں کے نقصان کے اور ان پانچوں پر اُمّنا ہاجرہ نے اور  کہا ہم سب اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف جانا ہے۔پس اپنے دو اقوال سے صبر واستقلال اور ایمان کا اظہار فرمایا اس واسطے اللہ تعالیٰ کریم ورحیم نے اس کی اولاد کو (قریش:۴)امن دیا ان کو عظیم الشان ڈر سے (قریش :۴)کھانا دیا ان کو بھوک سے اور بلدہ کو بلدہ مبارک فرما کر کثرت اموال و انفس و ثمرات اور الصبر کا نعم الاجر صلوات ورحمت عطا فرماکر اس کی اولاد کو ہدایت یافتہ فرمایا اور اسی واسطے اس قصہ کے بعد کے طواف کا ارشاد فرمایا۔جن پر اُمّنا ہاجرہ باربار غرض سات بار پھرتی رہیں توکہ اللہ تعالیٰ کے فضل واحسان کا نشان ہو۔یہ اصل بھید کی راہ ہے کہ جامع کمالات عمارت جوانبیاء علیھم السلام کے متفرق کمالات کے جامع خاتم النبیین کی جگہ اور مسجد ہے اور جس جگہ کی کتاب جامع ومہیمن اور  ہے اس عمارت کو ظاہری آنکھ سے مطالعہ کر کے اس جامع تعلیم کادل میں ہر پہلو سے مطالعہ کرو اور ہاجرہ کی تکالیف کے موقع پر اس فضل و انعام کامطالعہ کرو جو اس پر اور اس کی اولاد پر اللہ تعالیٰ سے ہوا۔۲۔دوزخ کے وجود پر اعتراض کیا ہے۔دوزخ پر اعتراض کرنے والو!دوزخ کانمونہ اس دنیا میں جذام گلت کوڑہ۔محرقہ تپ۔طاعون کالرہ۔اور ہموم وغموم اور افکار مخلوق میں موجود ہیں۔کیا آخر آتشک اس آتشک کایاد دہندہ اور سوزاک اس سوزش کا نمونہ نہیں ؟کیا یہاں اس دنیا میں بدکاریوںکے بدنتائج دوزخ کے ایگزی بیشن نہیں ہیں اور ضرور ہیں پھر تعجب ہے تم منکر کیوں؟ ۳۔اور حساب وکتاب پر اعتراض کیا ہے۔حالانکہ جیسا کوئی کرے ویسا پاتا ہے سچا مسئلہ