نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 272 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 272

زیر اعتراض یہ آیتیں ہیں:(الذاریات :۴۸) (قٓ:۳۹) کس قدر صاف اور صریح بات ہے مگر بد فطرت نکتہ چین ہر ایک حسن کو بدصورتی ہی قرار دیتا ہے۔اس میں ایک لفظ ید ہے۔جس پر صفات الٰہیہ سے جاہل کو اعتراض کا موقعہ مل سکتا ہے۔اس لفظ اور صفات الٰہیہ کی حقیقت ہم پہلے صفحہ ۱۴۴ سوال ۲۷ میں بیان کر چکے ہیں۔ہم نے وہاں بیان کیا ہے کہ صفات اپنے موصوف کی حیثیت اور طرز پر واقع ہوتی ہیں۔مثلاً چیونٹی کا ہاتھ،میرا ہاتھ ،شیر کاہاتھ اور مثلاً اس وقت ہند کی حکومت لارڈ کرزن کے ہاتھ میں ہے۔بے ہودہ بکواس کرنا،اناپ شناپ کہہ دینا اور بدوں علم وفہم کے اوربدوں اس کے کہ ویدوں کا تمہیں علم ہو ویدوں کی تائید میں گالی دینا جھوٹ بولنا تمھارے ہاتھ میںہے اور اس کے سوا تمھارے ہاتھ میں کچھ نہیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میںتمام جہان کاتصرف ہے وغیرہ وغیرہ۔اسی طرح ضروری ہے کہ جناب الٰہی کی شان کے مطابق اس کے ہاتھ مانو اور اگر یوں نہیں مانتے تو سنو سام وید فصل دوم حصہ دو کا پر پھاٹک نمبر ۶ صفحہ نمبر۷۴ میں ہے اندر بطور اس دیوتا کے جسکا بازو قوی ہے ہمارے لیے اپنے ہاتھ سے بہت سی پرورش کر نے والی لوٹ جمع کر۔بتاؤ اندر کون ہے پھر اسکا داہنہ ہاتھ کیا ہے اور اس سے لوٹ کرنا یہ کیسے الفاظ ہیں۔کیا تم نے پرمیشر کا نام سہنسر باہو نہیں پڑھا اگر نہیں پڑھا تو یجر وید کا پرش سکت دیکھو۔پھر اور سنو! ید کے معنی قوت کے ہیں۔قرآن کریم میں ہے حضرت داؤ دعلیہ السلام کی نسبت ارشاد ہے۔(ص:۱۸) یعنی یاد کرو ہمارے بندے داؤد کو بہت ہاتھوں والا (بڑا طاقت ور)وہ جناب الٰہی کی طرف توجہ کرنے والا ہے اور ید کے معنی نصرت وغیرہ کے بھی ہیں۔راغب میں ہے (الفتح :۱۱) ای نصرتہٗ ونعمتہ و قوتہ۔ید کے معنی ملک و تصرف کے بھی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ (البقرۃ :۲۳۸)ان معنوں میں سے ہر ایک یہاں چسپاں ہو سکتا ہے اور