نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 257
کی جزو ہے)ایسے حملے کرتے تھے کہ ہمدان اور موصل تک پہنچ جاتے تھے اور مراصدالاطلاع کی جلد نمبر ۲ باب السین والدال کے صفحہ نمبر ۱۷میں ہے کہ سدّ یاجوج ماجوج جس کا ذکر قرآن کریم میںہے وہ ترکوں کی آخری حد پر مشرق وغیرہ میں ہے اور اس کی خبر عام شہرت رکھتی ہے۔سلام ترجمان کی خبرمیں اس کا مفصل بیان ہے پھر صاحب مراصد نے اس کی تفصیل کی ہے۔غرض ایسی دیواریں ہوئی ہیں۔چین کی دیوار بہت مشہور ہے حاجت ذکر نہیں اور اس کو ہم کسی صورت میں سدّ ذوالقرنین تسلیم نہیں کر سکتے اس لئے کہ قرآن کا طرز ہے کہ اہل کتاب کے جھگڑوں میں ایسے امور کو بیان کرتاہے جو غالباً اہل کتاب کی کتابوں میں ہوں اور اہل کتاب کی کتاب دانیا ل میں ہمیں ذوالقرنین کا حال صاف صاف ملتا ہے کسی چینی بادشاہ کا نام ذوالقرنین کتب سابقہ اور اسلامی روایات ولغت سے ثابت نہیں۔یورال کی گھاٹیوں میں بھی ایسی دیواروں کا پتہ عرب کے بڑے بڑے جغرافیوں سے ملتا ہے۔(۱)۔مراصد یاقوت حموی۔مطبوعہ فرانس (۲)۔مسالک الممالک ابواسحاق ابراہیم الاصطخری الکرخی مطبوعہ برازیل (۳)۔تقویم البلدان۔سلطان عمادالدین اسماعیل۔پیرس (۴)۔نزہۃ المشتاق للادریسی (۵)۔آثار الباقیہ۔احمد بیرونی۔مطبوعہ جرمن (۶)۔مقدمہ ابن خلدون۔طبع مصر (۷)۔المسالک والممالک۔ابن حوقل۔طبع لنڈن۔یہ میرے پاس بحمد اللہ ہیں۔ا ن میں یہی یاجوج وماجوج کا ذکر ہے۔کتاب البلدان کے صفحہ ۳۔۵۔۹۵۔۱۰۴۔۱۹۳۔۱۹۸۔۳۰۱ اور مسالک الممالک ۶۔۷ بلکہ ستیارتھ صفحہ۱۹۲