نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 206 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 206

اب ہم اصل حقیقت کا اظہار کرتے ہیں قاموس اللغہ میں برقہ لغت کے نیچے لکھا ہے البرقۃ من میاہ نملۃ یعنی برقہ نملہ قوم کے پانیوں (چشموں)سے ایک چشمہ ہے۔طائف عرب کا ایک مشہور شہر ہے اس کے اور یمن کے درمیان یہ وادی نملہ واقع ہے اس وادی میں سے سونا نکلتاہے۔سونے کے باریک ذروں کو جو قوم چنتی اور اکٹھا کرتی ہے اس کو نمل کہتے ہیں کیونکہ چھوٹے چھوٹے ذرات کاجمع کرنا کیڑوں کاکام ہے۔ہمارے ملک میں بھی تھوڑا تھوڑا طعام جمع کرنے والوں کو کیرا کہتے ہیں اور ایسی عورتیں اپنے آپ کو اور لوگ ان کو کیری کہتے ہیں اور کیری کا ٹھیک ترجمہ نملہ ہے۔گوندل کی بارمیں ڈڈ۔چوہے اور مالیر کوٹلہ میں مور کٹانے قومیں اب بھی موجود ہیں۔اکھشا کا ترجمہ بیل کی جگہ سورج بنانے والو!تمہیں سمجھ پیدا ہو۔بیل کے بدلہ سورج تو بنا لیتے ہو اور دوسری قوموں پر اعتراض کرنے کو تیار ہوجاتے ہو اگرچہ ان کے ہاں قرائن قویہ مرجحہ موجود ہوں اس بیداد گری اور ناحق کی دل آزاری سے تم کس برومندی اور بہبود کی توقع رکھتے ہو!!! سوال نمبر ۵۳۔سلیمان جانوروں کی باتیں سنتے تھے جیسے ہدہد کی۔الجواب۔اس کا جواب سننے کے لئے ہمارے سوال نمبر ۵۲پر نظر کرو اور سنو! کیا تم مانتے ہو کہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ جانوروں کی باتیں سنتا اورسمجھتا ہے۔اگر سنتا ہے اور سمجھتا ہے کیونکہ وہ گیانمے چت سروپ ہے تو پھر اس کے مقرب اوراس میں لَے ہونے والے پاک بندے ان جانوروں کی باتیں کیوں نہیں سن سکتے۔ہم نے پرتیکش تجربہ کیا ہے کہ ایک دنیا کے جاہ وحشم والے کے ساتھ جس قدرکسی کا تعلق بڑھتا جاتاہے اسی قدر جاہ وحشم والے کی طاقتیں اس مقرب پر اپنا عکس (پرتے بمب)ڈالتی ہیں اور وہ مقرب بھی صاحب گونہ جاہ وحشم ہو جاتاہے۔تو سرب شکتی مان عالم کل۔ہمہ طاقت جناب الٰہی کے