نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 189
اوّل تو وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام کی اس سچی قربانی کی یادگار ہے جو ان دونوںنے اس فرمانبرداری میں کر دکھائی اور جس کا بیان اس آیت میں ہے۔(الصّٰفّٰت :۱۰۳ تا ۱۰۶) میںخواب دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کرتا ہوں اب تو غور کر کے بتا کہ تیری کیا رائے ہے؟ اس نے کہا اے میرے باپ! تو وہ بات کر جس کا تجھے حکم دیا جاوے۔تو مجھے انشاء اللہ صابر پائے گا اور جب وہ دونوں اللہ تعالیٰ کے حکموں پر راضی ہوگئے اور اسے ماتھے کے بل لٹایا۔ہم نے اسے آواز دی کہ اے ابراہیم! تو نے خواب کو سچا کر دکھایا۔اور فرمایا : (الانعام :۱۶۳،۱۶۴) میری نماز میری قربانی میرا جینا اور میرامرنا اللہ کے ہاتھ ہے جو پروردگار ہے جہانوں کا۔اس کاکوئی شریک نہیں اور اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں پہلا فرمانبردار ہوں۔دوم۔مشرکوں۔بت پرستوں کو دکھایا ہے کہ تمہاری دیوی دیوتا کی قربانیاں سب لغو ہیں ان کی ذرہ ضرورت نہیں۔اگر یہ ضروری ہیں تو دیکھو میں جانوروں کو ذبح کرتاہوں مگر پھر بھی ان دیوی دیوتا کی نذر ونیاز میں نہیں چڑھاتا اور نہ ان کے نام سے ذبح کرتا ہوں اور نہ میں اگنی دیوتا میں ان کو ڈالتا ہوں مگر میرا ذرا نقصان نہیں ہوتا۔اگر کوئی خونخوار دیوی اور دیوتا ہے اور میں اس کی مخالفت میں اس کے نام کی قربانی نہیں کرتا تو چاہیے کہ میرا کوئی بال تو بیکا کرکے دکھائے۔جب نہیں کرسکتا تو معلوم ہوا کہ یہ قربانیاں لغو ہیں۔