نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 180 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 180

اور ہمارے صوفیاء کرام نے تو یہاں تک احتیاط اور تاکید کو اختیارفرمایا ہے کہ وہ کہتے ہیں مَا کا لفظ جو مَااُھِلَّ میں آیاہے وہ عام اور وسیع ہے۔پھر حضرت شیخ ابن عربی نے فتوحات مکیہ میں لکھا ہے دیکھو فتوحات مکیہ جلد نمبر۳ صفحہ نمبر ۶۲۱ باب۳۹۸ وَالشِّعْرُ فِیْ غَیْرِ اللّٰہِ مَا اُھِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ فَاِنَّہُ لِلنِّیَّۃِ بِہٖ اَثَر فی الاَشْیَاء واللّٰہ یقول (البینۃ :۶) غیر اللہ کے لئے شعر کہنا مَااُھِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ سے ہے کیونکہ نیت کا اثر چیزوں میں ہواکرتاہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور نہیں حکم کئے گئے وہ لوگ مگر اس بات کا کہ عبادت و پرستش کریں اللہ کی صرف اس لئے خالص کرنے والے ہوں اپنے آپ کو۔ہم نے اپنی کتاب میںایسے شعروں سے پرہیز کیا ہے جو کسی محبوب مجازی کے حق میں یا غیر اللہ کے لئے وہ شعر بولے گئے کیونکہ وہ مَااُھِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ ہیں اور وہ حرام ہیں۔دوم ان تمام سوختنی قربانیوں سے روک دیا گیا ہے جو اشیاء آگ میں تباہ کی جاتی ہیں اور جن کا ذکر صدہا بلکہ ہزارہا بار یجر۔رگ۔سام ویدوں میں ہوا ہے تمہارے مشرک بھائیوں نے اس وقت بھی حضرت نبی کریم پر یہی اعتراض کیا جیسے ان کاقول خدا تعالیٰ نے نقل کیا ہے اور فرمایا ہے۔ (آل عمران:۱۸۲) اللہ نے سنی بات ان کی جنہوں نے کہا کہ اللہ محتاج ہے اور ہم دولت مند ہیں۔اور پھر یہ تمہارا اعتراض نقل کیا اور کہا ہے (آل عمران :۱۸۴) وہ جنہوں نے کہا کہ ہم رسول کی بات نہیں مانیں گے جب تک ہمارے پاس