نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 144
تبت سے سیدھے اسی ملک میں آکر بسے تھے۔ہمارے سردار رحمۃ للعالمین ﷺ سے جن نابکاروں نے مکہ والوں سے چھیڑ کی تھی دیکھو کس طرح خائب وخاسر ہو کر دنیا کے پردہ سے نابود ہو گئے اور وہ فتح کا جھنڈا ہاتھ میں لئے کس طرح مکہ میں جا براجے ؟ ہم اس کو انشاء اللہ تعالیٰ مقدمہ میں زیادہ واضح بیان کریں گے۔سوال نمبر ۲۵۔’’آدم کا قصہ مسلسل نہیں حالانکہ بیسیوں دفعہ شروع ہوا۔‘‘ الجواب۔قرآن کریم تاریخ کی کتاب نہیں جس قدر روحانی تعلیم کے متعلق کسی قصہ کی ضرورت ہوتی ہے صرف اتنا ہی قرآن کریم میں بیان ہوتا ہے۔مجھے پہلے خیال تھا کہ گریجوائٹ ہے۔مگر اب یقین آگیا کہ تجھے اکائی کی گنتی بھی نہیں آتی۔تو لکھتا ہے کہ بیسیوں دفعہ (آدم کا قصہ شروع ہوا)میں تجھے سچ کہتا ہوں تو جھوٹا اور احمق ہے۔ایک بیس دفعہ بھی نہیں نصف بیس دفعہ نہیں۔اب قرآن مجید پر پھر نظر کر۔البتہ یجروید میں ہزاروں باریگ کا بیان ہے۔اور سام میں اندر ،اگنی سوم کی ہزاربار تکرار سے شاعرانہ تعریف ہے۔رگوید کی اگنی،وایو، جل کا تکرار بکثرت بے ترتیب پایا جاتاہے۔سوال نمبر۲۶۔’’ایک دن نرسنگھا پھونکا جاوے گا اور لوگ مر جائیں گے۔سوالات کس جگہ کس طرح آواز پہنچے گی کیونکر مریں گے۔یہ واقعات کب ہوں گے۔کیا خدا معطل ہو جائے گا‘‘ الجواب۔یہ سوال ایسا ہے جیسے کوئی کہے کہ پال مرجائے گا۔تو آپ اس لئے انکار کر دیں کہ کس جگہ،کس طرح،کیونکر،کب اور کیا پھر خدا معطل ہو جائے گا۔کیا یہ سوال مہا پرلے پر آپ کو پیش نہیں آیا۔دیکھو جواب سوال نمبر۲۲۔سوال نمبر۲۷۔(الفجر:۲۳) (الحاقۃ:۱۸) الجواب۔جَاء فعل ہے۔افعال اور صفات کا طریق کیا ہے؟ یہ ہے کہ فاعل اور موصوف کے لحاظ سے افعال اور صفات کا رنگ اور حالت بدلتی رہتی ہے۔غور کرو مثلاً بیٹھنا ایک فعل ہے۔