نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 124
اور فرماتا ہے۔(البقرۃ:۱۱۶)جس طرف تم منہ کرو اسی طرف خدا کا منہ پاؤگے۔وہ تم سے تمہاری رگ جان سے بھی زیادہ قریب ہے۔وہی ہے جو پہلے ہے اور وہی ہے جو آخر ہے اور وہ سب چیزوں سے زیادہ ظاہر ہے اور وہ نہاں درنہاں ہے۔اور پھر فرماتا ہے۔(البقرۃ :۱۸۷) یعنی جب میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں کہ وہ کہاں ہے پس جواب ہے کہ ایسا نزدیک ہوں کہ مجھ سے زیادہ کوئی نزدیک نہیں جو شخص مجھ پر ایمان لا کر مجھے پکارتا ہے تو میں اس کا جواب دیتا ہوں۔ہر ایک چیز کی کل میرے ہاتھ میں ہے اور میرا علم سب پر محیط ہے۔میں ہی ہوں جوزمین و آسمان کو اٹھارہا ہوں۔میں ہی ہوں جو تمہیں خشکی تری میں اٹھا رہاہوں۔یہ تمام آیات قرآن شریف میں موجود ہیں۔بچہ بچہ مسلمانوں کا ان کو جانتاہے اور پڑھتا ہے۔جس کا جی چاہے وہ ہم سے آکرابھی پوچھ لے۔پھر ان آیات کو ظاہر نہ کرنا اور ایک استعارہ کو لے کر اس پر اعتراض کر دینا کیا یہی دیانت آریہ سماج کی ہے۔ایسا دنیا میںکون مسلمان ہے جو خدا کو محدود جانتاہے یااس کے وسیع اور غیر محدود علم سے منکر ہے۔اب یادرکھو کہ قرآن شریف میں یہ تو کہیں نہیں کہ خدا کو کوئی فرشتہ اٹھا رہاہے بلکہ جا بجا یہ لکھاہے کہ خدا ہر ایک کو اٹھا رہا ہے۔ہاں بعض جگہ یہ استعارہ مذکور ہے کہ خدا کے عرش کو جو دراصل کوئی جسمانی اور مخلوق چیز نہیں فرشتے اٹھا رہے ہیں۔دانش مند اس جگہ سے سمجھ سکتا تھا کہ جب کہ عرش کوئی مجسم چیز ہی نہیںتو فرشتے کس چیز کو اٹھاتے ہیں ضرور کوئی یہ استعارہ ہوگا۔مگر آریہ صاحبوں نے اس بات کو نہیں سمجھا کیونکہ انسان خود غرض اور تعصب کے وقت اندھا ہو جاتا ہے۔ف۔یہ بھی ایک مطلب ہے اور اس کے علاوہ بھی