نُورِ ہدایت — Page 90
پہلے ہو چکا ہے وہ ہم پر بھی کر اور کسی فضل سے ہمیں محروم نہ رکھ۔یہ آیت اس امت کو اس قدر عظیم الشان اُمید دلاتی ہے جس میں گذشتہ امتیں شریک نہیں ہیں۔کیونکہ تمام انبیاء کے متفرق کمالات تھے اور متفرق طور پر اُن پر فضل اور انعام ہوا۔اب اس امت کو یہ دعا سکھلائی گئی کہ ان تمام متفرق کمالات کو مجھ سے طلب کرو۔پس ظاہر ہے کہ جب متفرق کمالات ایک جگہ جمع ہو جائیں گے تو وہ مجموعہ متفرق کی نسبت بہت بڑھ جائے گا۔اسی بنا پر کہا گیا کہ كُنْتُمْ خَيْرَ أمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (آل عمران (111) یعنی تم اپنے کمالات کے رُو سے سب اُمتوں سے بہتر ہو۔(چشمه مسیحی، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 381،380) یاد رکھنا چاہئے کہ اس اُمت کے لئے مخاطبات اور مکالمات کا دروازہ کھلا ہے۔اور یہ دروازه گویا قرآن مجید کی سچائی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی پر ہر وقت تازہ شہادت ہے اور اس کے لئے خدا تعالیٰ نے سورہ فاتحہ ہی میں یہ دعا سکھاتی ہے اِهْدِنَا الصِّرَاط الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِم کی راہ کے لئے جو دعا سکھائی تو ان میں انبیاء علیہم السلام کے کمالات کے حصول کا اشارہ ہے اور یہ ظاہر ہے کہ انبیاء علیہم السلام کو جو کمال دیا گیا وہ معرفت الہی ہی کا کمال تھا اور یہ نعمت ان کو مکالمات اور مخاطبات سے ملی تھی اسی کے تم بھی خواہاں رہو۔( الحکم24 را کتوبر 1906 صفحہ 4) سورۃ فاتحہ میں ایک مخفی پیشگوئی موجود ہے اور وہ یہ کہ جس طرح یہودی لوگ حضرت عیسی کو کافر اور دجال کہہ کر مغضوب علیہم بن گئے بعض مسلمان بھی ایسے ہی بنیں گے۔اسی لئے نیک لوگوں کو یہ دعا سکھلائی گئی کہ وہ منم علیہم میں سے حصہ لیں اور مغضوب علیہم نہ بنیں۔سورۃ فاتحہ کا اعلی مقصود مسیح موعود اور اس کی جماعت اور اسلامی یہودی اور اُن کی جماعت اور ضالین یعنی عیسائیوں کے زمانہ ترقی کی خبر ہے۔سوکس قدر خوشی کی بات ہے کہ وہ باتیں آج پوری ہوئیں۔نزول المسیح ، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 415،414) 90