نُورِ ہدایت — Page 951
دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یمن اور شام میں عیسائی رہتے تھے اور عیسائیوں سے بڑی کثرت کے ساتھ انہیں ایسی خبریں مل سکتی تھیں جن میں آنے والے موعود کی خبر دی گئی تھی۔اسی طرح یہود بھی ان مقامات پر رہتے تھے اور ان سے بھی آنے والے ظہور کے متعلق بہت سی خبریں معلوم ہوسکتی تھیں۔پس ان دونوں سفروں سے مکہ والوں کو یہودیوں اور مسیحیوں سے میل ملاپ کا موقعہ ملتا تھا اور پرانے وعدے اِس ان پڑھ قوم کے دلوں میں تازہ ہوتے رہتے تھے اور اس طرح ان کی توجہ زیادہ سے زیادہ خانہ کعبہ سے تعلق رکھنے والے مامور کی طرف پھرتی تھی۔یہ لازمی بات ہے کہ جن لوگوں کے کانوں میں متواتر اس قسم کی باتیں پڑتی رہیں ان پر ایک قسم کا رعب پڑ جاتا ہے اور وہ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ کوئی بات ضرور ہے۔چنانچہ جب وہ یہود اور نصاریٰ سے متواتر اس قسم کی باتیں سنتے تو وہ بھی یہ سمجھنے لگ جاتے کہ اب ضرور کسی نے آنا ہے اور اس طرح ان کی باتوں سے ان کے دلوں پر ایک چوٹ لگتی۔ان کے کفر پر ایک کاری ضرب لگتی اور ان کی بے دینی کی دیوار میں شگاف پڑ جاتا۔وہ جوں جوں سفر کرتے آنے والے ظہور کے متعلق متواتر یہود اور نصاریٰ سے پیشگوئیاں سنتے اور پھر وہ ان پیشگوئیوں کو مکہ میں آکر بیان کرتے۔اس طرح ساری قوم میں ایک حرکت سی پیدا ہو گئی اور ان میں بھی ایک نبی کی آمد کا احساس شروع ہو گیا۔دوسری طرف اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب شام اور یمن میں مکہ والے جاتے تو یہودی اور عیسائی بھی سمجھتے کہ ہمیں مکہ والوں کی طرف سے خطرہ ہے ان کے مقابلہ کے لئے ہمیں ہوشیار ہو جانا چاہئے کیونکہ پیشگوئیاں سب عرب کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔غرض شتاء وصیف کے ان سفروں میں ایک بہت بڑی غرض اللہ تعالیٰ نے یہ خفی رکھی ہوئی تھی کہ مکہ کے لوگ یہود و نصاری سے بار بار ملیں اور آنے والے نبی کے متعلق ان سے پیشگوئیاں سنتے رہیں تا کہ جب اس نبی کا ظہور ہو اس پر ایمان لانا ان کے لئے آسان ہو۔چنانچہ مدینہ کے لوگوں کو رسول کریم اللہ پر ایمان لانے کی توفیق محض یہود سے تعلق رکھنے کی وجہ سے 951