نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 922 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 922

کیا۔اس میں رتبہ کا لفظ صاف طور پر بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ ہے کہ اس واقعہ سے خانہ کعبہ کو بچانا اتنا مطلوب نہ تھا جتنا تیری ذات کو بچانا مقصود تھا۔اس آیت میں ایک طرف كَيْفَ فَعَل کہہ کر اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ اس میں کسی بندے کا ہاتھ نہیں تھا۔پھر ربك کہہ کر یہ بتایا ہے کہ ہم نے یہ نشان کس کے لئے ظاہر کیا تھا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اے محمد رسول اللہ علی ملایم بیشک مکہ والوں کی بھی خاطر ہو گئی۔بیشک خانہ کعبہ کا بھی اعزاز ہو گیا۔مگر یہ ایک ضمنی بات تھی۔اے محمد رسول اللہ علیم ہم نے تو یہ نشان محض تیرے لئے دکھایا تھا اور تو ہی ہمارا اصل مقصود تھا۔پس درحقیقت یہ نشان محمد رسول اللہ ملی تعلیم کی ذات کے لئے تھا۔اور کسی کے لئے نہیں تھا۔ملہ کے لوگ بھی اس معجزہ کے تو قائل تھے مگر وہ اس امر کے قائل نہ تھے کہ یہ معجزہ کسی اور کے لئے ظاہر ہوا ہے۔وہ اتنا تو سمجھتے تھے کہ دعائے ابرہیمی کے پورا ہونے کا یہ ایک ثبوت ہے مگر یہ کہ احترام محمدی میں ایسا ہوا ہے اس کو وہ نہیں مانتے تھے۔اگر مانتے تو مسلمان کیوں نہ ہو جاتے۔اللہ تعالیٰ اسی امر کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے اے احمقو! تم اسے اب بھی نہیں مانتے۔حالانکہ ہم نے اس کی پیدائش سے بھی پہلے اس کے لئے یہ معجزہ دکھا دیا تھا اور جب ہم نے اس کی پیدائش سے بھی پہلے اس کے لئے یہ معجزہ دکھا دیا تھا اور جب ہم نے اس کی پیدائش سے بھی پہلے اس کے لئے اپنے معجزات ظاہر کرنے شروع کر دئیے تھے تو تمہیں سمجھ لینا چاہئے کہ ہم اب بھی اس کی زندگی کے آخری ایام تک اس کے لئے اپنے نشانات دکھاتے چلے جائیں گے۔اصحاب الفیل کہہ کر اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ صرف ابر ہہ اور اس کا لشکر تباہ نہیں ہوا بلکہ ان کی وہ پچھلی طاقت جو یمن میں تھی وہ بھی تباہ ہوگئی اور اس تباہی کا اتنا اثر پڑا کہ عیسائیوں کے قومی بالکل ڈھیلے ہو گئے۔اس تباہی میں اللہ تعالیٰ کی جو بہت بڑی حکمت کام کر رہی تھی وہ یہ ہے کہ ایک بھاری حکومت کے کسی لشکر کا تباہ ہوجانا خطرہ کو کم نہیں کرتا بلکہ اور بھی 922