نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 80 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 80

ہے۔اور ذات ایسے امور میں سے نہیں جن کا ادراک ہو سکے۔لفظ اللہ کو مشتق قرار دے کر جو معنے کئے جاتے ہیں وہ سب جھوٹ اور محض خرافات ہیں۔کیونکہ خدا تعالیٰ کی گنہ (حقیقت) کا پانا ( تمام خیالات سے بالا اور قیاسات سے دور ہے۔جب تم محمد رسول اللہ کہتے ہو تو اس کے معنے یہ ہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ذات باری کی صفات کے مظہر ہیں۔کمالات میں اس کے جانشین ہیں۔اور دائرہ ظلیت کو کامل کرنے والے اور سب رسالتوں کے خاتم ہیں۔پس جو کچھ میں دیکھتا اور پاتا ہوں اس کا ماحصل یہ ہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام مخلوقات سے افضل ہیں۔وہ اللہ تعالیٰ کی ان ہر دو صفتوں کے وارث ہوئے۔پھر جیسا کہ آپ پہلے رض معلوم کر چکے ہیں صحابہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جلالی حقیقت کے وارث بنے۔اور مشرکوں کا قلع قمع کرنے میں ان کی تلوار کی دھاک مسلم ہے اور ان کی یاد ایسا امر ہے کہ مخلوق کے پجاری اسے بھلا نہیں سکتے۔انہوں نے صفتِ محمدیت کا پورا پورا حق ادا کر دیا ہے اور انہوں نے بہتوں کو اپنے جنگی کارناموں کا مزا چکھایا۔اب رہی صفت احمدیت جو جمالی رنگوں سے رنگین ہے اور عشق و محبت کی آگ سے سوختہ ہے۔سو مسیح موعود اس صفت ( احمدیت ) کا وارث ہوا جو ذ رائع ( ترقی ) کے خاتمہ، دشمنوں کی کچلیوں سے ملت کی بربادی اور مددگاروں اور دوستوں کے معدوم ہونے اور دشمنوں کے غلبہ اور مخالف جماعتوں کے حملہ کے وقت مبعوث کیا گیا تا اللہ تعالیٰ اندھیری راتوں کے بعد اسلام کی قوت اور (مسلمان) سلاطین کے رعب کے مٹنے کے بعد اور ملت محمدیہ کے اپاہجوں کی مانند ہو جانے کے بعد اپنی مالکیت یوم الدین کا نمونہ دکھائے۔پس آج ہمارا دین بے وطنوں کی طرح ہو گیا۔اس کی حکومت سوائے آسمان کے اور کہیں باقی نہیں رہی (اس وقت کے ) اہل زمین نے اس کو نہیں پہچانا۔اور اسکے خلاف دشمنوں کی طرح اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔پس اس ضعف اور شان وشوکت کے مٹنے کے وقت ( خدا تعالیٰ کے ) بندوں میں سے ایک بندہ مبعوث کیا گیا۔تا وہ اس ( روحانی پانی کے) قحط زدہ زمانہ کو بارش کی طرح سیراب کرے پس یہ وہی مسیح موعود ہے جو اسلام کے ضعف کے وقت آیا ہے۔تا اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل سے لوگوں کو جب کہ وہ چوپایوں کی طرح 80