نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 69 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 69

قرآن شریف میں بار بار اور صاف صاف بیان کیا گیا ہے کہ قیامت تو مجازات کبری کا وقت ہے۔مگر ایک قسم کی مجازات اسی دنیا میں شروع ہے جس کی طرف آیت يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا (الانفال30) اشارہ کرتی ہے۔(کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 42) فرمایا کہ میں ملِكِ يَوْمِ الدايين ہوں۔جز او سزا دینا اُسی کے اختیار میں ہے۔اسی عالم سے جزاوسزا کا معاملہ شروع ہو جاتا ہے جو نقب زنی کرتا ہے شاید ایک دفعہ نہیں تو دوسری دفعہ دوسری دفعہ نہیں تو تیسری دفعہ ضرور پکڑا جاتا ہے یا کسی اور رنگ میں اسے سزا مل جاتی ہے ( یہ سزا کیا کم ہے کہ چور دولت کے لئے چوری کرتا ہے اور پھر بھی ہمیشہ مفلس اور غریب ذلیل رہتا ہے ) ہم نے اس عالم میں خوب غور کر کے دیکھ لیا کہ جوسر گرمی سے نیکی کرتا ہے تو نیک نتیجہ پانے سے خالی نہیں رہتا اور جو بدی کرتا ہے ضرور بد نتیجہ بھگت لیتا ہے دیکھو جو زنا کرتے ہیں اُن کو آتشک ہو جاتی ہے۔شراب پینے والوں کو رعشہ ہو جاتا ہے۔کسی کی انتڑیوں میں پھوڑے نکل آتے ہیں۔القصہ خدا کے اس قدر احسان ہیں کہ کس کی طاقت ہے جوان احسانوں کو شمار کر سکے انسان جس قدر قوی لے کر آیا ہے وہ کس کا عطیہ ہیں۔انسان اگر سوچ کر دیکھے تو سب قویٰ اللہ کی زیر قدرت ہیں چاہے تو ایک دم میں قلب کی حرکت موقوف ہو جائے اور انسان فور ابلاک ہو جائے مگر مرنے کو کس کا دل چاہتا ہے۔البدر نمبر 25 جلد 7 مؤرخہ 25 جون 1908 ، صفحہ 3) سورہ فاتحہ میں اُس خدا کا نقشہ دکھایا گیا ہے جو قرآن شریف منوانا چاہتا ہے اور جس کو وہ دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔چنانچہ اُس کی چار صفات کو ترتیب وار بیان کیا ہے جو امہات الصفات کہلاتی ہیں جیسے سورہ فاتحہ ام الکتاب ہے ویسے ہی جو صفات اللہ تعالی کی اس میں بیان کی گئی ہیں وہ بھی اتم الصفات ہی ہیں اور وہ یہ ہیں رَبُّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ - ان صفاتِ اربعہ پر غور کرنے سے خدا تعالیٰ کا گویا چہرہ نظر 69