نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 68 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 68

ایسا کار پرداز نہیں جس کو اس نے زمین و آسمان کی حکومت سونپ دی ہو اور آپ الگ ہو بیٹھا ہو اور آپ کچھ نہ کرتا ہو۔وہی کار پرداز سب کچھ جزا سزاد یتا ہو یا آئندہ دینے والا ہو۔اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 373) م مالک ایک ایسا لفظ ہے جس کے مقابل پر تمام حقوق مسلوب ہو جاتے ہیں اور کامل طور پر اطلاق اس لفظ کا صرف خدا پر ہی آتا ہے کیونکہ کامل مالک وہی ہے۔جو شخص کسی کو اپنی جان وغیرہ کا مالک ٹھہراتا ہے تو وہ اقرار کرتا ہے کہ اپنی جان اور مال وغیرہ پر میرا کوئی حق نہیں اور میرا کچھ بھی نہیں سب مالک کا ہے۔چشمہ معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 23) ہر ایک بدی کی سزا دینا خدا کے اخلاق عفو اور درگزر کے برخلاف ہے کیونکہ وہ مالک ہے نہ صرف ایک مجسٹریٹ کی طرح جیسا کہ اُس نے قرآن شریف کی پہلی سورت میں ہی اپنا نام مالک رکھا ہے اور فرمایا کہ ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ یعنی خدا جزا سزا دینے کا مالک ہے اور ظاہر ہے کہ کوئی مالک مالک نہیں کہلا سکتا جب تک دونوں پہلوؤں پر اس کو اختیار نہ ہو یعنی چاہیے تو پکڑے اور چاہے تو چھوڑ دے۔چشمه معرفت۔روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 24) یہ دنیا ایک عالم امتحان ہے اس کے حل کرنے کے واسطے دوسرا عالم ہے۔اس دنیا میں جو تکالیف رکھی ہیں اس کا وعدہ ہے کہ آئندہ عالم میں خوشی دے گا۔اگر اب بھی کوئی کہے کہ کیوں ایسا کیا اور ایسا نہ کیا؟ اس کا یہ جواب ہے کہ وہ محکم اور مالکیت بھی تو رکھتا ہے۔اُس نے جیسا چاہا کیا۔کسی کو اس کے اس کام پر اعتراض کی گنجائش اور حق نہیں۔الحکم نمبر 35 جلد 12 مؤرخہ 30 رمئی 1908 ، صفحہ 5) (انسان) گناہ سے تو جلالی رنگ اور ہیبت ہی سے بچ سکتا ہے جب یہ علم ہو کہ اللہ تعالیٰ اس گناہ کی سزا میں شَدِيدُ الْعَذَابِ ہے اور مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ ہے تو انسان پر ایک ہیبت سی طاری ہو جائے گی جو اس کو گناہ سے بچالے گی۔الحکم نمبر 45 جلد 5 مؤرخہ 10 دسمبر 1901، صفحہ 1) ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ سے صرف یہ مراد نہیں ہے کہ قیامت کو جزا سزا ہوگی بلکہ 68