نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 760 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 760

نہیں ہوسکتا کہ وہ دنیا میں ذلیل ہو۔الحکم جلد 12 نمبر 41 مورخہ 14 جولائی 1908 ، صفحہ 4) تم لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ تزکیۂ نفس کس کو کہا جاتا ہے۔سو یا درکھو کہ ایک مسلمان کو حقوق اللہ اور حقوق العباد کو پورا کرنے کے واسطے ہمہ تن تیار رہنا چاہئے اور جیسے زبان سے خدا تعالیٰ کو اس کی ذات اور صفات میں وحدہ لاشریک سمجھتا ہے ویسے ہی عملی طور پر اس کو دکھانا چاہئے اور اس کی مخلوق کے ساتھ ہمدردی اور ملائمت سے پیش آنا چاہئے اور اپنے بھائیوں سے کسی قسم کا بھی بغض، حسد اور کینہ نہیں رکھنا چاہئے اور دوسروں کی غیبت کرنے سے بالکل الگ ہوجانا چاہئے۔لیکن میں دیکھتا ہوں کہ یہ معاملہ تو ابھی ڈور ہے کہ تم لوگ خدا کے ساتھ ایسے از خود رفتہ اور محو ہو جاو کہ بس اسی کے ہو جاو اور جیسے زبان سے اس کا اقرار کرتے ہو عمل سے بھی کر کے دکھاؤ۔ابھی تو تم لوگ مخلوق کے حقوق کو بھی کما حقہ ادا نہیں کرتے۔بہت سے ایسے ہیں جو آپس میں فساد اور دشمنی رکھتے ہیں اور اپنے سے کمزور اور غریب شخصوں کو نظر حقارت سے دیکھتے ہیں اور بدسلوکی سے پیش آتے ہیں اور ایک دوسرے کی غیبتیں کرتے اور اپنے دلوں میں بغض اور کینہ رکھتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم آپس میں ایک وجود کی طرح بن جاؤ اور جب تم ایک وجود کی طرح ہو جاؤ گے اس وقت کہہ سکیں گے کہ اب تم نے اپنے نفسوں کا تزکیہ کر لیا۔کیونکہ جب تک تمہارا آپس میں معاملہ صاف نہیں ہوگا اس وقت تک خدا تعالیٰ سے بھی معاملہ صاف نہیں ہو سکتا گوان دونوں قسم کے حقوقوں میں بڑا حق خدا تعالیٰ کا ہے مگر اس کی مخلوق کے ساتھ معاملہ کرنا یہ بطور آئینہ کے ہے۔جو شخص اپنے بھائیوں سے صاف صاف معاملہ نہیں کرتا وہ خدا کے حقوق بھی ادا نہیں کرسکتا۔حکم جلد 12 نمبر 2 مورخہ 3 جنوری 1908ء) ہدایتِ الہی تو یہ ہے کہ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَشْهَا۔نجات پائے گا و شخص جس نے تزکیہ نفس کیا اور بلاک ہو گیا وہ آدمی جس نے نفس کو بگاڑا۔طلح چیرنے کو کہتے ہیں۔فلاحت زراعت کو جانتے ہو۔تزکیہ نفس میں بھی فلاحت ہے۔مجاہدہ انسانی نفس کو 760