نُورِ ہدایت — Page 761
اس کی خرابیوں اور سختیوں سے صاف کر کے اس قابل بنا دیتا ہے کہ اس میں ایمان صحیحہ کی تخم ریزی کی جاوے۔پھر وہ شجر ایمان بارور ہونے کے لائق بن جاتا ہے۔چونکہ ابتدائی مراحل اور منازل میں منتقی کو بڑی بڑی مصائب اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس لئے فلاح سے تعبیر کیا ہے۔رپورٹ جلسہ سالانہ 1897 صفحہ (154) بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان کی بدکاریاں اور شوخیاں اس حد تک پہنچی ہوئی ہوتی ہیں کہ جب وہ خدا کے غضب سے ہلاک ہوتا ہے تو اس لعنت اور غضب کا اثر اس کی اولاد تک بھی پہنچتا ہے۔اسی لئے قرآن شریف میں فرمایا گیا ہے وَلَا يَخَافُ عُقْبَهَا عُقْبَهَا اولاد اور پسماندگان مراد ہیں۔الحکم جلد 6 نمبر 21 مورخہ 10 جون 1902 ، صفحہ 8 حدیث شریف اور قرآن مجید سے ثابت ہے اور ایسا ہی پہلی کتابوں سے بھی پایا جاتا ہے کہ والدین کی بدکاریاں بچوں پر بھی بعض وقت آفت لاتی ہیں۔اسی کی طرف اشارہ ہے ولا تخافی عقبها - جولوگ لااُبالی زندگی بسر کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی طرف سے بے پرواہ ہو جاتا ہے۔دیکھو دنیا میں جو اپنے آقا کو چند روز سلام نہ کرے تو اس کی نظر بگڑ جاتی ہے تو جو خدا سے قطع کرے پھر خدا اس کی پرواہ کیوں کرے گا اسی پر وہ فرماتا ہے کہ وہ ان کو بلاک کر کے ان کی اولاد کی بھی پرواہ نہیں کرتا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو متقی صالح مرجاوے اس کی اولاد کی پرواہ کرتا ہے۔الحکم جلد 7 نمبر 12 مورخہ 31 اگست 1903ء صفحه 10) دیکھو جب کوئی بادشاہ کے کسی امر کے متعلق سمجھادے کہ تم اس سے رک جاؤ تمہارا بھلا ہوگا تو اگر وہ شخص رک جاوے تو بہتر ورنہ پھر اس کا عذاب کیسا سخت ہوتا ہے۔اسی طرح پہلے چھوٹے چھوٹے عذابوں سے خدا تعالیٰ لوگوں کو سمجھوتیاں دیتا ہے کہ باز آجاؤ موقع ہے ور نہ پچھتاؤ گے مگر جیسا وہ نہیں سمجھتے اور اس کی نافرمانی سے نہیں رکتے تو پھر اس کا عذاب ایسا ہوتا ہے۔لَا يَخَافُ عُقبها - الحکم جلد 7 نمبر 12 مورخہ 31 مارچ 1903 ، صفحہ 10) 761