نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 684 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 684

میری پریشانی بڑھی کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح قبض کرلی ہے۔اس پریشانی کی حالت میں میں آپ کے قریب پہنچا تو آپ سجدہ سے اٹھ بیٹھے۔آپ نے فرمایا کہ کون ہے؟۔میں نے عرض کی یا رسول اللہ ! میں عبد الرحمن ہوں۔پھر میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! آپ کا یہ سجدہ اتنا زیادہ لمبا ہو گیا تھا کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ کی روح تو قبض نہیں ہوگئی۔آپ نے فرمایا کہ میرے پاس جبریل آئے تھے اور یہ خوشخبری دی تھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کے حق میں فرماتا ہے کہ جو آپ پر درود بھیجے گا اس پر میں رحمتیں نازل کروں گا۔اور جو سلامتی بھیجے گا اس پر میں سلامتی نازل کروں گا۔اس بات پر میں سجدہ شکر بجالا رہا تھا اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتحمید کر رہا تھا۔( مسند احمد بن حنبل جلد 1 صفحہ 512-513 حدیث نمبر 1664 : مسند عبد الرحمن بن عوف مطبوعہ بیروت ایڈیشن 1998ء) یہی نہیں کہ آپ پر اللہ تعالیٰ کا یہ اتنا بڑا انعام تھا اس کی وجہ سے شکر بجالا رہے ہیں، بلکہ ہر چھوٹی سے چھوٹی اللہ تعالی کی جو نعمت تھی ، اس پر بھی آپ اللہ تعالیٰ کی بے انتہا تسبیح وحمد و شکر گزاری فرمایا کرتے تھے۔آپ کی خوراک کیا تھی۔بعض وقت تو فاقے بھی ہوتے تھے اور روکھی سوکھی روٹی ہوتی تھی۔لیکن اس کے بعد بھی اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر فرماتے تھے۔اور تسبیح سے اپنی زبان کو تر رکھتے تھے۔یہاں یہ بھی بتا دوں کہ روایت میں آتا ہے کہ سبح اسم ربك الْأَعْلَى (الاعلیٰ 2) کی آیت اترنے سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی یہ دعا کرتے اور اپنے صحابہ کو بھی آپ نے فرمایا ہوا تھا کہ سجدے میں یہ دعا پڑھا کرو کہ اللهم لك سجدت لیکن اس آیت کے بعد پھر آپ نے سُبْحَانَ رَبِّي الأعلیٰ کی دعا سکھائی۔اسی طرح فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظیم کی آیت جب نازل ہوئی ہے تو پھر آپ نے رکوع میں بھی سُبحان ربی العظیم کی دعا سکھائی ہے۔( ابوداؤد کتاب الصلوۃ باب ما يقول الرجل في ركوع و سجودہ حدیث نمبر 869، 871) آپ نے اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرنے کے طریق کس طرح سکھائے ؟ کس طرح ہر وقت آپ کے دل میں اللہ تعالیٰ کی بزرگی اور برتری کا خیال رہتا تھا اور آپ راہنمائی فرماتے تھے؟ اس 684