نُورِ ہدایت — Page 679
پر عمل کر سکتا ہے اور یہ بھی اسلام کی حفاظت اور اُس کے دائمی طور پر قیام کا ایک ذریعہ ہے۔فَذَكِرانْ تَفَعَتِ الذِكُرُى اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب ہم نے ایسی کامل تعلیم دی ہے جو ہمیشہ رہنے والی ہے اور جس کی قیامت تک حفاظت کی جائے گی تو اب تیرا کام یہ ہے کہ تولوگوں کو نصیحت کر۔جبکہ یہ یقینی بات ہے کہ نصیحت لوگوں کو فائدہ دیتی ہے۔ا فذكر ان نَفَعَتِ الکری کے یہ معنے نہیں ہیں کہ ایک دفعہ نصیحت کرو اور کوئی نہ مانے تو اُسے چھوڑ دو۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَذَكر ان نَفَعَتِ الذِ گری جب کہ یہ یقینی اور تحقیقی بات ہے کہ ذکری سے ہمیشہ نفع پہنچتا ہے تو پھر اے محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم تو ذکری کو چھوڑ یو نہیں بلکہ دن اور رات اس میں مشغول رہیں۔اگر آج نہیں تو کل اور کل نہیں تو پرسوں ان لوگوں کے سینے گھل جائیں گے اور یہ ہدایت کو قبول کرلیں گے۔پس یہاں یہ حکم نہیں دیا گیا کہ ایک دو دفعہ نصیحت کرو، اگر فائدہ نہ ہو تو چھوڑ دو۔بلکہ حکم یہ دیا گیا ہے کہ ہمیشہ نصیحت کرتے جاؤ کیونکہ نصیحت ایسی چیز ہے جو ضرور دل پر اثر کرتی ہے۔وَيَتَجَنَّبُهَا الْأَشْقَى الذِي يَصْلَى النَّارَ الكُبرى۔اوپر کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ مضمون بیان فرمایا تھا کہ نصیحت کو بالالتزام جاری رکھنا چاہئے۔کیونکہ خشیت کے اوقات انسانی قلب پر آتے رہتے ہیں اور ہو سکتا ہے جو شخص آج انکار کر رہا ہو وہ کل ہماری باتوں کو تسلیم کرنے لگ جائے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اگر تم ہمارے اس حکم پر عمل جاری رکھو تو پھر ایسا ہی شخص ہدایت پانے سے محروم رہ سکتا ہے جو سخت شقی ہو اور جس کے گناہوں کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر دیا ہو کہ اب اسے ہدایت نہیں مل سکتی اور نہ اور لوگ ضرور مان جائیں گے۔یہ علیحدہ سوال ہے کہ وہ جلدی مانتے ہیں یادیر کے بعد مانتے ہیں۔یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آشفی کا لفظ کیوں استعمال فرمایا ہے۔اس کا 679