نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 666 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 666

بھیجا سا نظر آنے لگ جائے گا۔اور اُس کی ساری خوبصورتی ماری جائے گی۔لیکن علاوہ خوبصورتی کے اس کو کا ایک بہت بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ چونکہ اس کے اندر لچک پائی جاتی ہے اس وجہ سے آواز اُس کے ذریعہ سے ایک لہر پیدا کر دیتی ہے جس کی وجہ سے آواز زیادہ محمدگی سے سنی جاسکتی ہے۔یہ ایک موٹا فائندہ کان کی لو کا ہے۔اور بھی کئی فوائد ہوں گے جو اپنے اپنے وقت ظاہر ہوتے رہیں گے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اُس نے انسان کو پیدا کیا اور پھر اُسے بے عیب بنایا ہے۔کوئی چیز ایسی نہیں جس کی کوئی نہ کوئی غرض نہ ہو۔ہر چیز اللہ تعالیٰ نے حکمت اور انسانی فائدہ کو مدنظر رکھتے ہوئے پیدا کی ہے۔پھر خَلَقَ فَسَوی کے یہ بھی معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو معتدل القویٰ بنایا ہے اور اُس کی قوتوں میں اُس نے ہر لحاظ سے اعتدال پیدا کیا ہے۔خَلَقَ فَسَوی کے ایک یہ بھی معنے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اور پھر جب جب اُس میں خرابی پیدا ہوئی اللہ تعالیٰ نے اُس کی درستی کے سامان کئے اور اس کی کجی کو دور کیا۔تشویہ کے ایک معنے۔۔۔عیب پیدا ہونے پر اُس عیب کو دور کرنے کے ہوتے ہیں۔پس خَلَقَ فَسَوی کے ایک معنے یہ بھی ہیں کہ اُس نے انسان کو پیدا کیا اور پھر جب کبھی اُس میں خرابی پیدا ہوئی اللہ تعالیٰ نے اُس کو ڈور کیا۔جو خدا اپنے بندوں کا اس قدر خیال رکھتا ہے اور ہر خرابی پر اس کو ڈور کرنے کے سامان مہیا کرتا ہے اس کی طرف یہ عیب کبھی منسوب نہیں کیا جا سکتا کہ خرابی تو پیدا ہومگر وہ اُس کوڈ ورکرنے کے سامان مہیا نہ کرے۔وَالَّذِي قَدَّدَ فَهَدَى لا قدرة على الشني کے معنے ہوتے ہیں جَعَلَهُ قَادِرًا اُس کو قادر بنا دیا۔اور قدر فُلان کے معنے ہوتے ہیں روی وَفَكَّرَ في تَسْوِيَةِ أَمْرِه اُس نے کسی معاملہ میں غور کیا اور سوچا کہ اُسے کس طرح سر انجام دے۔قَدَّدَ الشَّيئ بِالشَّني کے معنے ہوتے قَاسَهُ بِهِ وَجَعَلَهُ عَلَى مقدارہ اُس نے ایک چیز کو دوسری پر قیاس کیا اور اُس کے مطابق اسے بنایا۔یہ بھی کہ 666