نُورِ ہدایت — Page 534
اپنے فضل کے ساتھ پاک کر کے بھیجے گا اس کا تو نقشہ ہی کچھ اور ہوگا۔بہر حال یہ ان لوگوں کا بیان ہے ان آیات میں جو اپنے اعمال کے لحاظ سے سب سے زیادہ گرے ہوئے ہیں خدا تعالیٰ کی نگاہ میں۔( خطبات ناصر جلد هشتم 485-491) اسی طرح آپ نے خطبہ جمعہ فرمودہ 19 مئی 1972ء میں فرمایا : دنیا میں ایک وہ انسان ہے جو دنیا کے لئے دُنیا کماتا ہے اللہ تعالیٰ نے ایسےلوگوں کے متعلق فرمایا ہے۔ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْیا یعنی ان کی تمام تر کوشش اس دُنیوی زندگی کے لئے ہوتی ہے۔ان کے مقابلے میں ایک وہ انسان ہے جو دین کی خاطر اور خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے اموال قربان کرنے کے لئے دُنیا کماتا ہے۔اب جہاں تک دُنیا کے کمانے کا سوال ہے۔دونوں برابر ہیں لیکن جہاں تک دولت کے خرچ کرنے کا سوال ہے ان دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے کیونکہ ایک تو دُنیا کما کر زمینی بن گیا اور دوسرے نے دُنیا کمائی اور اس کے لئے آسمان کے دروازے کھول دئیے گئے۔اس لئے ہر دو میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔پس ربنا اتنا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً کی جب دُعا سکھائی گئی تو اس کے ایک معنے یہ ہوئے کہ ہم خدا سے یہ کہیں کہ اے خدا! ہم نے انتہائی محنت اور انتہائی تدبیر کر دی دُنیا کمانے کے لئے ہم نے اپنی تدبیر کو انتہا تک پہنچادیا اور اسی طرح دعا کو بھی انتہا تک پہنچادیا ہے اور اب اس مقام پر کھڑے ہو کر ہم یہ کہتے ہیں رَبَّنَا اتنا في الدُّنْيَا حَسَنَةٌ کہ اے ہمارے رب! ہماری تدبیر اور ہماری دُعا تیرے فضل اور تیری رحمت کے بغیر نتیجہ نہیں پیدا کر سکتی اس لئے تو اپنے فضل سے اس کا نتیجہ پیدا کر اور اس دُنیا کی حسنات میں ہمیں شریک اور حصہ دار بنا اور ہمیں اس کا وارث قرار دے تا کہ ہم دُنیا کی نعمتوں کو حاصل کر کے اور پھر ان نعمتوں کو تیری راہ میں قربان کر کے اپنی روحانی اور اُخروی حسنات کے لئے سامان پیدا کریں۔غرض حقیقت یہی ہے کہ دنیا کی حسنات کے بغیر اخروی حسنات مل نہیں سکتیں۔میں اس کی 534