نُورِ ہدایت — Page 533
خدا تعالیٰ کا یہ قرب نہ ہو اس کی وقیوم کا تو فنا آ جائے اس چیز پر جس سے وہ قطع تعلق کرتا ہے۔وہ ہلاکت ہے وہ عدم بن جاتا ہے اس کے لئے۔تو چونکہ انہوں نے کائنات میں ظاہر ہونے والے جلووں کا انکار کیا اور جو روحانی ارتقاء کے لئے اور روحانی رفعتوں کے حصول کے لئے اور اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے کے لئے انبیاء علیہم السلام اور اب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی۔نوع انسانی کے لئے صرف حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی ان کی بھلائی کے لئے اب ایک زندہ نبی کی صورت میں قیامت تک انسانوں میں اپنے روحانی فیوض کے لحاظ سے زندہ ہیں اور موجود ہیں۔اس اتنی عظیم کتاب اتنی عظیم آیات جس کا ایک ایک لفظ جو ہے وہ انسان کو حیران کر دیتا ہے اتنی ہدایتیں، اتنی خوبصورتیاں ،حسن پاک کرنے کی اتنی طاقت، اتنا جذب ان کے اندر ہے لیکن اس کو پہچانا نہیں انہوں نے۔أَخْسَرِينَ احتمالا تو ثابت ہو گیا۔خدا کے نزدیک بدترین عمل کے لحاظ سے وہ لوگ ہیں کہ جو خدا تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہیں جو ایت رسم ہے۔خدا تعالیٰ نے اس لئے ان آیات کو ظاہر کیا تھا کہ ان کی جسمانی اور روحانی تربیت کرے، ربوبیت کرے ربّ ہے وہ ان کا۔اس لئے کیا تھا کہ وہ اس کے نتیجہ میں اس کے پیار کو اس کی رضا کو اور اس کی رضا کی جنتوں کو حاصل کریں۔ایک ابدی جنت ان کے نصیب میں ہو جہاں خیر ہی وہ چاہیں گے اور ہر خیر جو وہ چاہیں گے وہ ان کو ملے گی۔بڑی عجیب ہے وہ دنیا جسے ہم آج سمجھ نہیں سکتے ہماری طاقت میں نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہ ہماری یہ آنکھ، نہ ہمارے یہ کان ، نہ ہمارا یہ دماغ اسے سمجھ سکتا ہے لیکن تمثیلی زبان میں اشارے اس کی طرف کئے گئے ہیں۔وہ اس کی حقیقت کو اس زندگی میں اللہ تعالیٰ کے پیار کو جو وہاں جانے والے حاصل کریں گے ہر آن رفعتوں کے حصول کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ نے ہمیں کچھ دھندلا سا نقشہ اس زندگی میں بتایا ہے اور پھر یہاں پیار کر کے بتایا ہے کہ اس زندگی میں جب میں پیار کرتا ہوں تمہاری امتحان کی ابتلا کی زندگی میں تمہاری غلطیوں اور کوتاہیوں اور غفلتوں اور گناہوں کے باوجود جہاں ہر قسم کے گناہوں سے خدا تعالیٰ 533