نُورِ ہدایت — Page 504
صلی اللہ علیہ وسلم یہی آیت پڑھتے جاتے تھے۔ایک ایک بت پر ضرب لگاتے اور فرماتے جاتے تھے۔قُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا۔یہ بھی قرآن کا معجزہ ہے کہ اس نے کعبہ سے بتوں کے دور کئے جانے کے موقعہ کے لئے جو آیت رکھی ہے وہ شعر کی طرح موزوں ہے۔اس قسم کی خوشی کا موقعہ انسانی طبیعت کو شعر کی طرف راغب کرتا ہے۔قرآن شعر نہیں مگر اس کی آیات کے بعض ٹکڑے شعر کی سی موزونیت رکھتے ہیں۔یہ آیت بھی اگر اس کے شروع سے قُل کا لفظ اڑادیا جائے تو شعر کی طرح موزوں ہو جاتی ہے۔جاءَ الْحَقُ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ایک مصرعہ اور إنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا۔دوسرا مصرعہ ہوتا ہے۔قُل نے اس کو شعر کی تعریف سے نکال دیا۔لیکن جب اس کے پڑھنے کا موقعہ آیا تو چونکہ اس آیت کو قتل کے بغیر پڑھنا تھا اس وقت یہ آیت اپنے شاندار معانی کے علاوہ ایک موزوں کلام کا بھی کام دیتی تھی۔اور اس خوشی کے موقعہ کے عین مناسب حال تھی۔جَاءَ الْحَقُ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ہی چیز مختلف نظروں سے دیکھی جاتی ہے۔اور جیسی کسی کی فطرت ہوتی ہے۔ایسا ہی وہ دوسری چیزوں کو سمجھتا ہے۔کتناہی اعلیٰ اور پاک کلام کیوں نہ ہو۔لیکن گندے دل والے انسان کو اس میں گند ہی نظر آتے ہیں۔میں یہ دیکھ کر حیران رہ جاتا ہوں کہ پنڈت دیانند صاحب کو قرآن مجید کے ابتدا سے لے کر آخر تک اعتراض ہی اعتراض نظر آئے اور انہیں کوئی خوبی اس میں دکھائی نہ دی۔یہی معنی اس آیت کے ہیں کہ ظالم اس پر نکتہ چینیاں کر کے اور بھی اپنے گناہوں کو بڑھاتے ہیں۔ان عام معنوں کے علاوہ میرے نزدیک اس آیت کے یہ معنی بھی ہیں کہ اس جگہ قرآن سے مراد وہ خاص حصہ ہے جو پہلے اتر چکا ہے۔یعنی مومنوں کی ترقی اور کامیابی کی پیشگوئیاں اور دشمنوں کی بربادی اور تباہی کی خبریں۔فرمایا کہ ان خبروں کے پورا ہونے کا وقت آ گیا ہے۔ان پیشگوئیوں کے نتیجہ میں مسلمانوں کے زخمی دلوں کو شفا حاصل ہوگی اور ان کے زخم مندمل ہوں گے۔ان کے ترقی کے سامان پیدا ہوں گے مگر یہی پیشگوئیاں کافروں کے حق میں نقصان اور تباہی کے سامان ساتھ لائیں گی۔نابجانبه نا کے معنے ہیں بعد دور ہوا۔نابجانبہ کے معنی ہوں گے اس نے اپنے 504