نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 503 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 503

پڑے گا کہ ہجرت پہلے تھی اور فتح مکہ بعد میں لیکن اس کا بھی وہی جواب ہے جو پہلے بیان ہوا کہ مکہ سے نکلنے کے صدمہ کو اس خبر سے کم کر دیا کہ آپ پھر مکہ میں آنے والے ہیں۔اور اس کے بعد مکہ سے نکلنے کا ذکر کیا تا تسلی پہلے ہو جائے اور غم کی خبر بعد میں بتائی جائے۔اس صورت میں مقام محمود کے معنی یہ ہوں گے کہ فتح مکہ کے بعد دشمنوں کے سب اعتراضات دور ہوجائیں گے اور عربوں پر آپ کی سچائی ظاہر ہو جائے گی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔سُلْطَانًا نَصِيرًا مجھے اپنے پاس سے ایسا غلبہ دے جو کہ نصیر ہو۔یعنی وہ میرے کاموں میں میر احمد و معاون ہو مضر نہ ہو کیونکہ بعض غلبے انسان کے لئے بجائے فائدہ پہنچانے کے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔یعنی مجھے غلبہ تو ملے۔مگر ایسا نہ ہوجس کا انجام میرے کاموں کی تباہی ہو۔جَاءَ الْحَقُ وَزَهَقَ الْبَاطِلِ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا زَهَقَ زَهَقَ الْبَاطِلُ اِضْمَحَلَّ باطل کمزور ہو گیا۔الشَّيءُ بَطَلَ وَهَلَكَ کوئی چیز بے اثر ہو گئی ، مٹ گئی (اقرب) اس میں یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ مدنی زندگی کے شروع ہونے کے ساتھ ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طاقت مضبوط ہوتی اور بڑھتی جائے گی اور دشمن کی کمزوری اور ضعف و ناتوانی کے سامان پیدا ہوتے جائیں گے۔یہاں تک کہ آخر باطل کمزور پڑتے پڑتے فنا ہو جائے گا اور مکہ کی فتح کے وقت عرب سے بت پرستی کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کردیا جائے گا۔قرآن کریم کا یہ بے نظیر کمال ہے کہ وہ ہر موقعہ کے لئے ایسے الفاظ چنتا ہے جو ایک لمبے مضمون پر دلالت کرتے ہیں۔اس آیت میں زَهَقَ کا لفظ رکھا ہے۔اس کی جگہ هَلك اور بکل وغیرہ الفاظ بھی رکھے جاسکتے تھے مگر ان سے باطل کی تباہی کی تدریج کا علم نہ ہوتا جو ھوق کے الفاظ سے بتائی گئی ہے۔زھوق کے معنے کمزور ہو جانے اور بلاک ہو جانے کے ہیں۔اور اسی طرح مکہ والوں سے گزری۔یہ نہیں کہ وہ یکدم تباہ ہو گئے۔بلکہ کمزور ہونے شروع ہوئے پستہ آہستہ وہ وقت آیا کہ بالکل فنا ہو گئے۔پس زھوق کے لفظ نے ہلاکت کی تفصیل بھی بتادی۔جب مکہ فتح ہوا اور خانہ کعبہ میں رکھے ہوئے بتوں کو توٹ کر پھینکا گیا۔اس وقت رسول کریم 503