نُورِ ہدایت — Page 483
حاضر رکھنا اور روح کا اس احساس سے لذت حاصل کرنا یہ ہیں شرائط قبولیت دعا۔تو ربوبیتِ خداوندی کا اعتراف کرتے ہوئے اس کی حمد و ثنا میں مشغول رہنا اور اس یقین پر قائم ہونا کہ خدا تعالیٰ کا کوئی فعل عبث اور باطل نہیں ہے۔بے حکمت نہیں ہے۔مصلحتوں سے خالی نہیں ہے۔ہر چیز جو اس نے پیدا کی وہ کسی مصلحت کے نتیجہ میں پیدا کی اور انسان کو بھی اس نے کسی مصلحت کے لئے پیدا کیا جس کا ذکر قرآن کریم نے یہ کہہ کے کیا ہے کہ میں نے اس لئے پیدا کیا ہے اے انسان تجھے کہ تو خدا تعالیٰ کا عبد بننے کی کوشش کرے اور اپنی تمام طاقتوں پر اس کا رنگ چڑہا کے اس کے حسن میں سے حصہ لے جو تیرے دل نے اور تیری روح نے خدا کے وجود میں دیکھا اور مشاہدہ کیا اور پھر شرط لگائی ہجرت کی اور مجبور کر کے وطن سے بے وطن کئے جانے کی۔اس کے ایک ظاہری معنی ہیں ایک صوفیا نے معنی کئے ہیں اور انہوں نے یہ معنی کئے ہیں کہ اپنے نفس سے دوری یعنی اپنے نفس کی خواہشات کو پورا نہ کرنا اپنے نفس کا ایک وطن ہے اس کی عادتیں ہیں جہاں وہ خوشی محسوس کرتا ہے۔ان کو چھوڑ نا خدا کے لئے بے نفس ہو جانا جن چیزوں سے محبت اور پیار ہے ان کو ترک کر دینا۔خدا تعالیٰ کے لئے ایڈا کو برداشت کرنا اور ایذا کو ایذا نہ سمجھنا اور جو شیطانی وساوس کی یلغار ہو انسان پر اس کے خلاف جنگ لڑنا ، دفاعی جنگیں کرنا۔پس صوفیا اس کے یہ معنے کرتے ہیں کہ شیطانی وسوسوں کے خلاف جنگ کرنا کامیابی کے ساتھ اور شیطان کو کسی صورت میں یہ اجازت نہ دینا کہ وہ جسے خدا نے اپنا بندہ بنانے کے لئے پیدا کیا ہے۔اسے شیطان اپنا بندہ بنادے اور خدا کی راہ میں قربان ہوجانا شہادت پانا اور ہر چیز قربان کر کے بھی خدا تعالیٰ کی ناراضگی مول نہ لینے کے سامان پیدا کرنا۔یعنی یہ نہ برداشت کرنا کہ خدا ناراض ہو جائے۔دنیا جائے ، رشتہ دار جائیں، تعلقات ٹوٹیں اپنے بیگانے ہوجائیں، جو ہو سو ہولیکن انسان خدا تعالیٰ کے لئے اپنے نفس پر ایک موت وارد کرے۔صوفیا اس کو شہادت کہتے ہیں اور ظاہری طور پر بھی پھر بسا اوقات بعض لوگوں کو خدا کے حضور جان پیش کرنی پڑ جاتی ہے۔تو یہ دس شرائط یہاں قبولیت دعا کی بیان ہوئی ہیں جن کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں دعا 483