نُورِ ہدایت — Page 484
کی قبولیت کا حق (اسی کے کہنے پر ) پیدا کر لیتی ہے ورنہ انسان کا کوئی حق نہیں خدا پر۔لیکن خدا کہتا ہے اگر یہ دس باتیں تم اپنے اندر پیدا کرو گے تو میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا۔ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ سارا دن خدا کو بھولے رہو۔ساری راتیں اپنی غفلت میں بسر کرو اور پانچ منٹ خدا کے حضور دعا کرو اور مجھو کہ خدا پر قرض ہو گیا کہ خدا تمہاری دعاؤں کو قبول کرے۔اسے تمہاری حاجت نہیں تمہیں خدا کی حاجت ہے۔سارے کا سارا خدا کا ہو جانا جسمانی لحاظ سے بھی ، قلبی اور روحانی لحاظ سے بھی اور جیسا کہ ابھی میں نے بتایا ذکر اللہ میں مشغول رہنا قلب وروح کا مصنوعات باری میں تفکر کرنے کے بعد صحیح نتائج نکالنا، ربوبیت خداوندی کا اعتراف کرتے ہوئے حمد و ثنا میں مشغول رہنا، اللہ تعالیٰ کو ہر ایسی چیز سے پاک سمجھنا جو اس کی طرف عبث اور باطل چیز کو منسوب کرنے والی ہو، تا اس کی راہ میں ہجرت کرنا، بے وطنی کو قبول کرنا، ہر قسم کی اندرونی اور بیرونی ایڈا کو برداشت کرنا، شیطانی حملوں کا کامیاب مقابلہ کرنا اور فنا کی حالت اپنے پر طاری کر لینا۔خدا کہتا ہے میں ایسے بندوں کی دعائیں اپنے فضل سے سنتا ہوں اور قبول کرتا ہوں۔کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اپنی بات منوائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ خدا کے فضل سے ہی انسان جنت میں جاتا ہے اپنے کسی عمل سے نہیں۔یہاں بھی خدا تعالیٰ نے جب دعا قبول کر کے ثواب دینے کا ذکر ہوا ہے تو وَلَأُدْخِلَنَّهُمْ جَنَّتٍ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهرُ (آل عمران:196) فرمایا کہ میرے فضل سے جنتیں مل گئیں خدا کی رضا کی۔یہ نہیں کہا تم نے دس شرائط پوری کیں اس لئے اس نے جنت میں بھیج دیا۔یہ کہا ہے ثَوَابًا مِّنْ عِندِ اللہ یہ بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ثواب ہے۔تمہارے اپنے عمل کا نتیجہ پھر بھی وہ نہیں ہوگا۔لیکن تم اس قابل ہو جاؤ گے کہ خدا تعالیٰ اگر چاہے تو تم سے پیار کرے۔باقی جو خود ناپاک بنتا ہے خدا تعالیٰ جو پاکوں کا پاک ہے۔اس ناپاک سے کیسے پیار کرنے لگ جائے گا۔اس کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا لیکن ثُوَابًا مِّنْ عِنْدِ اللهِ ہے یعنی دس ا شرائط پوری کرنے کے بعد دعا کا قبول ہونا اور اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا نزول ہونا وہ بھی انسان کے 484