نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 461 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 461

نہیں۔ہاں ثواب کی خاطر تم نفلی صدقہ دینا چاہو تو دے سکتے ہو۔یہ باتیں سن کر وہ شخص یہ کہتے ہوئے واپس چلا گیا کہ خدا کی قسم ! نہ اس سے زیادہ کروں گا نہ کم۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ سچ کہتا ہے تو اس کو کامیاب سمجھو۔( صحیح البخاری کتاب الایمان باب الزكاة من الاسلام حدیث نمبر 46) آپ نے اس کو فلاح پانے والا کہا اور یہ کہہ کر جنت کی بشارت دی۔پس اس بات سے پتا چلتا ہے کہ اسلام نے ہر ایک سے حضرت عمرؓ اور حضرت ابوبکر جیسے ایمان کا مطالبہ نہیں کیا۔ہر ایک کے مختلف درجے ہیں۔ہر ایک کی طاقتیں ہیں۔ہر ایک کے ایمان کے معیار ہیں۔حضرت ابوبکر زکوۃ کے علاوہ بھی گھر کا اپنا سارا مال اٹھا کے لے آتے ہیں۔حضرت عمر سمجھتے ہیں آج میں آگے نکل جاؤں گا اور آدھا مال گھر کالے آتے ہیں۔لیکن جب دیکھا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تمام لے کر آئے ہوئے تھے۔( سنن الترمذی ابواب المناقب باب نمبر 43 حدیث نمبر 3675) تو یہاں بھی ہر ایک کے معیار ہیں۔ہاں یہ بیشک ہے کہ ایسے اعلیٰ معیار کا مطالبہ ہر ایک سے نہیں ہوسکتا۔لیکن تحریص دلائی گئی ہے۔بتایا گیا ہے کہ نوافل کا ثواب ہے۔بلکہ یہ بھی کہا که نوافل فرائض کی کمی کو بھی پورا کرتے ہیں۔ایمان ویقین میں اضافہ کرتے ہیں۔لیکن یہ حکم نہیں دیا گیا کہ ضرور ہر ایک کے لئے فرض ہے چاہے اس کی حالت ہے کہ نہیں کہ نفل ادا کرے۔یعنی جو بھی فرائض میں داخل ہے صرف نفل نمازوں کے ( معاملہ میں ) نہیں بلکہ مالی قربانی کے لئے بھی ، وقت کے لئے بھی۔کیونکہ اعلیٰ درجوں پر عمل جو ہے اسلام میں قابلیتوں کی بنا پر ہے۔اس لئے ہر ایک کے لئے فرض نہیں ہے اور چونکہ قابلیتیں مختلف ہوتی ہیں اس لئے کم سے کم قابلیت اور عقل جو سب میں ہوتی ہے اس کے مطابق مطالبہ کیا گیا ہے۔ایمان کے اعلیٰ مدارج کا ہر ایک سے مطالبہ نہیں کیا گیا۔جو ( مدارج ) کسی بھی اعلی سے اعلیٰ ایمان رکھنے والے کے اپنے اعلیٰ معیار کے مطابق ہوں، کم سے کم ایمان رکھنے والے کا جو اعلیٰ ترین معیار ہے اس کو وہاں تک پہنچنے کے لئے نہیں کہا گیا۔پس یہ فرق ہے جو صلاحیتوں اور 461