نُورِ ہدایت — Page 460
کوئی بہت پیچھے رہ جاتا ہے۔پھر پیشوں کے لحاظ سے بھی ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی کسی پیشے میں آگے نکلنے کی صلاحیت رکھتا ہے کوئی کسی پیشے میں تعلیم کے لحاظ سے کسی کا رجحان کسی مضمون کی طرف ہوتا ہے، کسی کا کسی طرف۔تو یہ ایک فطری چیز ہے کہ رجحان مختلف کاموں کے کرنے اور ان میں کامیابی حاصل کرنے کی طرف لے جاتے ہیں۔بہر حال کوئی انسان برابر نہیں ہوسکتا۔اللہ تعالیٰ نے برابر پیدا ہی نہیں کیا ، نہ حالات اس کو برابر رکھ سکتے ہیں۔انسانوں کی صلاحیتوں میں فرق ہوتا ہے۔برابر مواقع بھی دئیے جائیں تو تب بھی کوئی آگے نکل جاتا ہے کوئی پیچھے رہ جاتا ہے۔عقل کے علاوہ بھی بعض عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔یہی حالت ایمان کی بھی ہے۔جس طرح ظاہری طور پر ہوتا ہے اس طرح ایمان میں بھی یہی ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کی بھی یہی حالت ہے۔اپنی اپنی صلاحیتوں اور استعدادوں کے مطابق کوئی آگے نکل جاتا ہے، کوئی پیچھے رہ جاتا ہے۔ہم یہ امید تو سب سے کر سکتے ہیں کہ سب ایمان لے آئیں لیکن یہ نہیں ہو سکتا ہے نہ یہ کیا جا سکتا ہے کہ سب کا ایمان اور عمل کا معیار ایک جیسا ہو جائے۔اللہ تعالیٰ یہ تو فرماتا ہے کہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے۔قرآن کریم میں بھی ذکر ہے۔کیوں اپنی عاقبت خراب کرتے ہیں۔لیکن یہ مطالبہ قرآن کریم میں نہیں ہے کہ ہر ایک حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے مومن کیوں نہیں بنتے۔ایک روایت میں آتا ہے ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام کے متعلق پوچھا۔آپ نے فرمایا دن رات میں پانچ نمازیں پڑھنا فرض ہے۔اس نے پوچھا اس کے علاوہ بھی کوئی نما ز فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔اگر نفل پڑھنا چاہو تو پڑھ سکتے ہو۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ماہ کے روزے رکھنا فرض ہے۔اس نے پوچھا اس کے علاوہ بھی کوئی روزے فرض ہیں ؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ہاں نفلی روزے رکھنا چاہو تو رکھ سکتے ہو۔اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوۃ کا بھی ذکر فرمایا۔اس پر اس نے پوچھا۔اس کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی زکوۃ ہے؟ آپ نے فرمایا: 460