نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 449 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 449

یہ اللہ تعالیٰ کا دعویٰ ہے کہ کیونکہ وہ کسی مومن کو بھی بلاوجہ تکلیف میں نہیں ڈالتا اس لئے جو بھی احکامات ہیں ہر انسان کی عمل کرنے کی طاقت کے اندر ہیں۔پھر دسویں بات یہ کہ اللہ تعالیٰ سچی خوابیں بھی ہر انسان کو اس لئے دکھاتا ہے تا کہ اُسے انبیاء کی وحی والہام کا کچھ حد تک ادراک ہو سکے۔اگر کبھی سچی خواب ہی نہ آئی ہو تو وہ انبیاء کے دعوے کو بھی محض جھوٹ سمجھے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”جو نبی آتا ہے اس کی نبوت اور وحی والہام کے سمجھنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کی فطرت میں ایک ودیعت رکھی ہوئی ہے اور وہ ودیعت خواب ہے۔اگر کسی کو کوئی خواب سچی کبھی نہ آئی ہو تو وہ کیونکر مان سکتا ہے کہ الہام اور وحی بھی کوئی چیز ہے۔اور چونکہ خدا تعالیٰ کی یہ صفت ہے کہ لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا اس لئے مادہ اُس نے سب میں رکھ دیا ہے۔“ ( تفسیر حضرت مسیح موعود عالسلام - سورة البقرة آیت 287 - جلد اول صفحه 776) چوروں، ڈاکوؤں ، زانیوں کو بھی سچی خوابیں آتی ہیں۔گیارہویں بات یہ کہ بچپن کا زمانہ اور جوانی میں قدم رکھنے سے پہلے کا زمانہ بے خبری کا زمانہ ہے۔اسی طرح جو کم عقل ہیں یا ذہنی معذور ہیں، ان کا احکامات پر عمل نہ کرنا یا اس طرح پابندی نہ کرنا قابل مؤاخذہ نہیں ہوگا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ابتدائی زمانہ تو بے خبری اور غفلت کا زمانہ ہے۔اللہ تعالیٰ اس کا مواخذہ نہ کرے گا جیسا کہ خود اس نے فرما یالا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا الَّا وُسْعَهَا۔( تفسیر حضرت مسیح موعود ع الينا - سورة البقرة آيت 287 - جلد اول صفحہ 777) بارہویں بات یہ کہ اگر جوانی اور پوری ہوشیاری اور عقل اور تمام قویٰ کی صحت کی حالت میں اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل نہ ہو تو پھر یہ بات قابل مواخذہ ٹھہرے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس ضمن میں فرماتے ہیں کہ : ” ایک ہی زمانہ 449