نُورِ ہدایت — Page 448
لانے کا پابند اور قابل مواخذہ ہے۔لیکن جو فرائض اللہ تعالیٰ نے مقرر کئے ہیں انہیں اپنی اپنی استطاعت کے مطابق بجالانا بہر حال ہر مومن پر فرض ہے۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ ایک دیہاتی شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام کے بارہ میں پوچھا۔آپ نے فرما یا دن رات میں پانچ نمازیں پڑھنا۔اس پر اس نے پوچھا کہ اس کے علاوہ بھی کوئی نماز فرض ہے؟ آپ نے فرمایا نہیں، ہاں اگر نفل پڑھنا چاہو تو پڑھ سکتے ہو۔پھر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ماہ رمضان کے روزے رکھنا۔اس نے پوچھا اس کے علاوہ بھی روزے فرض ہیں؟ آپ نے فرمایا نہیں۔ہاں نفلی روزے رکھنا چاہو تو رکھ سکتے ہو۔اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوۃ کا بھی ذکر فرمایا۔اس نے اس پر عرض کیا کہ اس کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی زکوۃ ہے؟ آپ نے فرمایا نہیں۔ہاں ثواب کی خاطرتم نفلی صدقہ دینا چاہوتو دے سکتے ہو۔اس پر وہ شخص یہ کہتے ہوئے چلا گیا کہ خدا کی قسم نہ اس سے زیادہ کروں گا نہ کم۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں بیٹھے ہوئے لوگوں کو فرمایا کہ اگر یہ سچ کہتا ہے تو اسے کامیاب و کامران سمجھو۔“ (موطا امام مالك باب جامع الترغیب فی الصلاة) تو ہر ایک کی جو جو استعداد میں ہیں اس کے مطابق وہ عمل کرتا ہے۔آپ کچھ نوافل کی تلقین بھی فرمایا کرتے تھے۔پھر نویں بات یہ کہ قرآن کریم کے تمام احکامات قابل عمل ہیں۔اس کا اور رنگ میں مختصر ذکر پہلے بھی آچکا ہے۔کوئی بھی ایسا حکم نہیں جو انسان پر بوجھ ہو۔جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر عمل کرنے کے ضمن میں میں نے بتایا کہ حقیقی مومن اُن پر چلتا ہے اور چلنے کی کوشش کرتا ہے۔اور جیسا کہ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق اور زندگی قرآن کریم کے احکامات کی عملی تصویر ہیں۔( مسند احمد بن حنبل مسند عائشہ جلد نمبر 8 صفحہ 305 حدیث نمبر 25816 مطبوعہ بیروت ایڈیشن 1998 ء ) پس اپنی اپنی حیثیت اور استعدادوں کے مطابق ہر ایک کو ان پر عمل کرنے کا حکم ہے اور 448