نُورِ ہدایت — Page 425
کوئی تغیر پیدا نہ ہوا اور کفار میں اور ہم میں ایک نمایاں روحانی امتیاز اور فرق لوگوں کو محسوس نہ ہوا۔ہمارے اخلاق اور کردار اُن سے بلند نہ ہوئے اور ہمارے معاملات اُن سے بہتر نہ ہوئے تو دنیا ہمیں طعنہ دے گی کہ انہوں نے محمد رسول اللہ صلیم کے ساتھ ہو کر کیا فائدہ اُٹھایا۔ان میں تو کوئی بھی تبدیلی پیدا نہ ہوئی۔پس اے خدا تو اپنے فضل سے ہمیں اپنے اندر ایسا نیک تغیر پیدا کرنے کی توفیق عطا فرما کہ ہم تیرے رحم اور کرم کو جذب کرلیں اور کفار پر ہمیں جسمانی رنگ میں ہی نہیں بلکہ اخلاق اور روحانیت کے لحاظ سے بھی ایک نمایاں تفوق اور غلبہ حاصل ہو جائے اور تیرا دین دنیا کے کناروں تک پھیل جائے۔(ماخوذ از تفسير كبير - سورة البقرة زير آيات 285 تا 287) حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: لسان العرب میں ایک۔۔حدیث بیان کی ہے کہ مَنْ قَرَأَ الْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ أَى أَغْنَتَاهُ عَنْ قِيَامِ الَّيْلِ (لسان العرب۔باب كفى - الجزء 15 صفحہ 226) جس نے رات کے وقت سورۃ البقرۃ کی آخری دو آیات پڑھیں تو وہ اس کے لئے کافی ہوں گی یعنی وہ دونوں آیات رات کے قیام سے اسے مستغنی کردیں گی۔بعض نے اس کے یہ معنی کئے ہیں کہ یہ دو آیات سب سے کم تعداد ہے جو رات کو قیام کے وقت قراءت کے لئے کافی ہیں۔اسی طرح بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ یہ دونوں آیات شرکے مقابلے پر کافی ہیں اور مکروہات سے بچاتی ہیں۔اگر ان پر غور کیا جائے اور ان آیات کے معانی ہر ایک پر واضح ہوں تو ان آیات میں بہت ساری باتیں آجاتی ہیں۔اس میں دعائیں بھی ہیں اور شر سے بچنے کے راستے بھی بتائے گئے ہیں اور ایمان میں پختگی کے راستے بھی بتائے گئے ہیں۔اس حدیث کے حوالے سے بعض سوال اٹھ سکتے ہیں کیونکہ اس سے بعض دفعہ یہی معنی ظاہر ہوتے ہیں کہ پڑھ لیا تو کافی ہو گیا۔اس لئے اس وقت میں ان آیات کے حوالے سے کچھ وضاحت کروں گا۔425