نُورِ ہدایت — Page 411
یعنی وہ لوگ جو چاہتے ہیں کہ مومنوں میں بدی پھیل جائے ان کے لیے بڑا دردناک عذاب مقدر ہے۔اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔اس آیت میں بھی ان لوگوں کا کوئی عمل بیان نہیں کیا گیا بلکہ ان کے دل کی حالت بیان کر کے سزا تجویز کی گئی ہے۔پس وہ خیالات جن کو انسان اپنے دل میں قائم رکھے اور اُن کے متعلق سوچتا اور غور کرتا رہے خواہ ان کو عمل میں نہ لا سکے قابل سزا ہیں۔مگر وہ ناپاک خیالات جو دل میں آئیں اور انسان بائیں طرف تھوک کر اور استغفار اور لاحول پڑھ کر اُن کو دل سے نکال دے اُن پر کوئی گرفت نہیں۔اسی طرح اوپر کے رکوع میں ہی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ لَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةً وَمَنْ يَكْتُمُهَا فَإِنَّهُ ائِمُ قَلْبُهُ (بقره 284) یعنی تم سچی گواہی کو مت چھپاؤ اور یاد رکھو کہ جو شخص سچی گواہی کو چھپاتا ہے وہ یقیناً ایسا ہے جس کا دل گناہگار ہے۔صحیحین میں حضرت رض ابوہریرہ سے یہ حدیث بھی مروی ہے کہ اِذَا هَم عَبدِي بِسَيِّئَةٍ فَلَا تَكْتُبُوهَا عَلَيْهِ فَإِنْ عَمِلَهَا فَاكْتُبُوهَا سَيْئَةً وَإِذَا هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلُهَا فَاكْتُبُوهَا حَسَنَةً فَإِنْ عَمِلَهَا فَاكْتُبُوا عَشْرًا۔یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے ملائکہ کو یہ حکم دے دیا ہے کہ جب میرا بندہ کسی بدی کا ارادہ کرے تو اسے مت لکھو۔ہاں اگر اس ارادہ کے مطابق عمل بھی کرلے تو ایک بدی اس کے نامہ اعمال میں درج کر دو۔لیکن اگر وہ کسی نیکی کا ارادہ کرے اور اس پر عمل نہ کرے تو اس کی ایک نیکی لکھو۔اور اگر اُس نیکی پر عمل کرلے تو پھر دس نیکیاں لکھو۔ان آیات اور احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی خیالات تین قسم کے ہیں۔اول وسوسہ یا خیال اٹھا اور خود بخود چلا گیا۔اس کا تو نہ ثواب ہے نہ عذاب۔دوم۔ایک بدعقیدہ دل میں پیدا ہوا یا ایک بدکام کی تحریک دل میں پیدا ہوئی اور اُس نے اُس کورڈ کر دیا۔چونکہ بدی کا مقابلہ نیکی ہے اس کو ایک نیکی کا ثواب ملے گا۔سوم۔اگر اس نے اُس کو باہر نہ نکالا اور اپنا مال سمجھ کر دل میں رکھ لیا تو اس کو ایک بدی کا گناہ ہوگا۔411