نُورِ ہدایت — Page 410
طرح اس سے ایسے خیالات مراد ہیں جن کو انسان اپنے دل میں قائم رکھتا ہے اور جن کو عمل میں لانے کی نیت کر لیتا ہے۔لیکن اگر ایک خیال آئے اور انسان اُسے اپنے دل سے فور انکال دے تو یہ کوئی گناہ نہیں۔بلکہ ایک نیکی ہے جس میں اُس نے حصہ لیا۔پس محض دل کے خیالات قابل مواخذہ نہیں جب تک کہ اُن پر عمل نہ کیا جائے یا اُن کو پختگی سے قائم نہ کر لیا جائے۔چنانچہ حضرت ابوہریرہ سے صحیحین میں مروی ہے کہ رسول کریم علیہ نے فرمایا ان الله تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِي مَا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسُهَا مَا لَمْ تَتَكَلَّمُ أَوْ تَعْجَلُ بِهِ۔یعنی اللہ تعالیٰ نے میری امت کے ان خیالات سے درگزر فرما دیا ہے جو اُن کے دلوں میں پیدا ہوتے رہتے ہیں۔بشر طیکہ وہ ان کو زبان پر نہ لائیں اور نہ اُن پر جلدی سے عمل پیرا ہونے کی کوشش کریں۔پس اس آیت میں ان خیالات کا ذکر کیا گیا ہے جن کو انسان اپنے دل میں چھپا کر رکھتا ہے۔اور جن کے متعلق سکیمیں سوچنا شروع کر دیتا ہے۔وقتی اور آنی خیالات کا اس میں کوئی ذکر نہیں اور نہ ان پر کوئی گرفت ہے۔ہاں غلط عقائد اور بغض اور حسد اور کینہ وغیرہ بھی اگر بغیر تو بہ کے بخش دیئے جائیں تو پھر ایمان کی کوئی حقیقت ہی نہیں رہتی اس لیے اُن پر مواخذہ کیا جائے گا۔کیونکہ یہی تمام گناہوں کی جڑھ ہیں۔اسی وجہ سے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لَا يُوا خِذُكُمُ اللهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِنْ يُؤَاخِذُ كُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ (بقرة 226) یعنی اللہ تعالیٰ تمہاری قسموں میں سے لغو قسموں پر تم سے کوئی مؤاخذہ نہیں کرے گا ہاں جو گناہ تمہارے دلوں نے بالا رادہ کمایا ہے اُس پر تم سے مؤاخذہ کرے گا۔دوسری جگہ فرماتا ہے۔اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا (بني اسرائيل (37) یعنی کان آنکھ اور دل سب کے متعلق انسان سے سوال کیا جائے گا۔یعنی کان آنکھ کے گناہوں کے علاوہ ان خیالات کا بھی جائزہ لیا جائے گا جو مستقل طور پر کسی انسان کے دل میں پیدا ہوتے رہے۔اسی طرح فرماتا ہے۔اِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ امَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (النور 20) 410