نُورِ ہدایت — Page 361
اس بات کو مزید کھول کر ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یوں فرمایا ہے کہ : یہ ہرگز نہ سمجھنا چاہئے کہ شفاعت کوئی چیز نہیں۔ہمارا ایمان ہے کہ شفاعت حق ہے اور اس پر یہ نص صریح ہے۔وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلونَكَ سَكَن لَّهُمْ (التوبۃ103) یہ شفاعت کا فلسفہ ہے یعنی جو گناہوں میں نفسانیت کا جوش ہے وہ ٹھنڈا پڑ جاوے۔شفاعت کا نتیجہ یہ بتایا ہے کہ گناہ کی زندگی پر ایک موت وارد ہو جاتی ہے اور نفسانی جو شوں اور جذبات میں ایک برودت آ جاتی ہے جس سے گناہوں کا صدور بند ہو کر ان کے بالمقابل نیکیاں شروع ہو جاتی ہیں“۔(یعنی نفسانی جوشوں میں اور جذبات میں کمی آجاتی ہے، ان میں ٹھنڈ پڑ جاتی ہے جس سے گناہوں کا صادر ہونایا عمل ہونا کم ہو جاتا ہے اور اس کے مقابلہ میں نیکیاں شروع ہو جاتی ہیں ) پس شفاعت کے مسئلے نے اعمال کو بیکار نہیں کیا بلکہ اعمال حسنہ کی تحریک کی ہے۔آپ فرماتے ہیں ” پس شفاعت کے مسئلے نے اعمال کو بیکار نہیں کیا بلکہ اعمال حسنہ کی تحریک کی ہے۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 702 - 701 جدید ایڈیشن) پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت اس دنیا میں ہی شروع ہو گئی تھی اور یہ نیک اعمال کے ساتھ مشروط ہے، نہ کہ کسی کفارہ سے اس کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔کفارہ کے فلسفے میں گناہوں میں دلیری پیدا ہوتی ہے اور شفاعت کے فلسفے میں نیک اعمال کی طرف اور خدا کو ماننے اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے اور اس زمانہ میں دعا کے ذریعہ سے شفاعت کا اذن اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کو عطا فرمایا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : ”میری جماعت کے اکثر معزز خوب جانتے ہیں کہ میری شفاعت سے بعض مصائب اور امراض میں مبتلا اپنے دکھوں سے رہائی پاگئے ہیں۔“ لیکچر سیالکوٹ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 236) لیکن اس شفاعت کے بیان کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرما دیا کہ خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ اصل حقیقت کیا ہے۔يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وہ جانتا ہے جو اُن کے سامنے 361