نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 358 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 358

صرف خود ہی ہمیشہ زندہ نہیں رہتا بلکہ تمام جانداروں کو زندگی بخشنے والا ہے۔اور القیوم ہے، صرف خود ہی قائم نہیں ہے بلکہ کائنات کی ہر چیز کو قائم رکھنے والا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں: اس آیت کے لفظی معنی یہ ہیں کہ زندہ خدا وہی خدا ہے اور قائم بالذات وہی خدا ہے۔پس جبکہ وہی ایک زندہ ہے اور وہی ایک قائم بالذات ہے تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ ہر ایک شخص جو اس کے سوا زندہ نظر آتا ہے وہ اُسی کی زندگی سے زندہ ہے اور ہر ایک جو زمین یا آسمان میں قائم ہے وہ اسی کی ذات سے قائم ہے۔“ چشمہ معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 120 ) پس اپنے زندہ اور قائم ہونے اور زندہ اور قائم رکھنے کا حوالہ دے کر مومنوں کو یہ تسلی دلا دی کہ تم دنیاوی دباؤ اور دنیاوی لالچوں کے زیر اثر کبھی نہ آنا اور جو وعدے میں نے مومنوں سے کئے ہیں ان پر پوری طرح یقین رکھنا۔تمہاری نسلوں کی زندگی اور بقا بھی میرے ساتھ جڑے رہنے سے وابستہ ہے اور جماعتی زندگی اور بقا بھی میرے ساتھ جڑے رہنے سے وابستہ ہے۔حالات کی وجہ سے دنیاوی ذرائع پر انحصار کرنے کا نہ سوچنے لگ جانا۔میری عبادت کرتے رہو۔میری طرف جھکے رہو تو اسی میں تمہاری زندگی ہے اور اسی میں تمہاری بقا ہے۔ایک دوسری جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَتَوَكَّلْ عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ وَسَبِّحْ بِحَمْدِهِ (الفرقان 59) اور تو اس پر توکل رکھ جوزندہ ہے اور سب کو زندہ رکھتا ہے کبھی نہیں مرتا اور اس کی تعریف کے ساتھ اس کی تسبیح کر۔پس ایک مومن حالات کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی ذات میں کسی صفت کے بارہ میں شک میں نہیں پڑتا بلکہ مشکلات اسے حتی و قیوم اور قادر اور مجیب خدا کے سامنے اور زیادہ جھکنے والا بناتی ہیں۔پھر خدا تعالیٰ نے لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا تَوْم کہ کر یہ بھی واضح فرما دیا کہ کبھی کسی مومن کے دل میں یہ خیال نہیں آنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نیند یا اونگھ کی حالت میں زندہ رکھنے اور قائم رکھنے سے غافل ہو سکتا ہے۔یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کی صفات نہ محدود ہیں، نہ ہی اسے کسی قسم کی کمزوری ان 358