نُورِ ہدایت — Page 355
صحت اور ہر ایک عیب سے مبرا ہونے میں بے مثل و مانند ہے اور لا ریب ہونے میں اکمل اور اتم ہے۔“ پھر آپ نے فرمایا اور علت غائی یعنی اس کی جو بنیادی وجہ ہے علت غائی کے کمال کی طرف اشارہ کرتا ہے یہ فقرہ کہ هُدًى لِّلْمُتَّقین۔یعنی یہ کتاب ہدایت کامل متقین کے لئے ہے اور جہاں تک انسانی سرشت کے لئے زیادہ سے زیادہ ہدایت ہو سکے وہ اس کتاب کے ذریعہ سے ہوتی ہے۔“ ( حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 137-136 - حاشیہ) ہدایت اور عرفان الہی کے بھی مدارج ہیں۔پس قرآن کریم کی تعلیم پر غور اور عمل، ہدایت اور عرفان الہی کی نئی سے نئی راہیں کھولتا ہے۔یہ چار باتیں قرآن پڑھتے وقت اگر ہمارے سامنے ہوں اور ان پر ایمان اور یقین ہو تو قرآن کریم کو سمجھنے اور اس کا صحیح ادراک حاصل کرنے کی طرف راہنمائی ملتی ہے۔اب میں آیت الکرسی کی کچھ وضاحت کروں گا۔اس آیت میں بھی خدا تعالیٰ کے جامع الصفات اور وسیع تر ہونے کا مضمون ہے۔اس آیت کی ابتدا ہی اللہ تعالیٰ کے نام سے ہوتی ہے۔اللہ کیا ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : اللہ جو خدائے تعالیٰ کا ذاتی اسم ہے اور جو تمام جمیع صفات کا مستجمع ہے۔“ فرمایا ” کہتے ہیں کہ اسم اعظم یہی ہے اور اس میں بڑی بڑی برکات ہیں لیکن جس کو وہ اللہ یاد ہی نہ ہو وہ اس سے کیا فائدہ اٹھائے گا۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 63 جدید ایڈیشن) پس جب ایک انسان مومن ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ کو سب طاقتوں کا سر چشمہ یقین کرنا چاہئے اور اسے تمام صفات کا اس حد تک احاطہ کئے ہوئے سمجھنے پر ایمان ہونا چاہئے، جہاں تک انسان کے فہم و ادراک کی رسائی نہیں ہوسکتی۔جو بے کنار ہے اور جب یہ ایمان ہوگا تو تبھی ہر موقع پر خدا تعالیٰ یا در ہے گا۔بہت سی برائیوں میں انسان اس لئے مبتلا ہو 355