نُورِ ہدایت — Page 333
موسوی سلسله مسیح پر آ کر ختم ہوا اسی طرح خدا تعالیٰ نے ایک خاص مناسبت کی وجہ سے اس سلسلہ کو بھی ایک محمدی مسیح پر ختم کیا ہے اور مہدی نام اس کا اس لئے رکھا ہے کہ وہ براہ راست خدا تعالیٰ سے ہدایت پائے گا اور ایسے وقت میں آئے گا جبکہ دنیا سے نور و ہدایت اُٹھ گئے ہوں گے۔پھر ایک لطیف تر بات ان دونوں سلسلوں کی مماثلت میں یہ ہے کہ جیسے مسیح موسوی موسیٰ علیہ السلام کے بعد چودھویں صدی) میں آیا تھا یہاں بھی مسیح محمدی کی بعثت کا زمانہ چودھویں ہی صدی ہے اور جیسے مسیح موسوی یہودیوں کی سلطنت نہیں بلکہ رومیوں کی سلطنت میں پیدا ہوا تھا اسی طرح محمدی مسیح بھی مسلمانوں کی سلطنت میں نہیں بلکہ انگلش گورنمنٹ کی سلطنت میں پیدا ہوا ہے۔غرض ہمارا ہر گز یہ مذہب نہیں ہے کہ مہدی آ کر لڑائیاں کرتا پھرے گا اور خونریزی اُس کا کام ہوگا۔الحکم جلد 5 نمبر 29 مؤرخہ 10 اگست 1901 ، صفحہ 8) میں سچ کہتا ہوں کہ اگر نوح کی قوم کا اعتراض شریفانہ رنگ میں ہوتا تو اللہ تعالیٰ نہ پکڑتا۔ساری قومیں اپنی کرتوتوں کی پاداش میں سزا پاتی ہیں۔خدا تعالیٰ نے تو یہاں تک بھی فرما دیا ہے کہ جولوگ قرآن سننے کے لئے آتے ہیں ان کو امن کی جگہ تک پہنچادیا جاوے خواہ وہ مخالف اور منکر ہی ہوں، اس لئے کہ اسلام میں جبر اور اکران نہیں جیسے فرمایا : لا إكراه في الدين الحکم جلد 6 نمبر 13 مورخہ 10 را پریل 1902 ، صفحہ 4) وہ تمام لوگ آگاہ رہیں ! جو اسلام کے بزور شمشیر پھیلائے جانے کا اعتراض کرتے ہیں کہ وہ اپنے اس دعوے میں جھوٹے ہیں۔اسلام کی تاثیرات اپنی اشاعت کے لئے کسی جبر کی محتاج نہیں ہیں۔اگر کسی کو شک ہے تو وہ میرے پاس رہ کر دیکھ لے کہ اسلام اپنی زندگی کا ثبوت براہین اور نشانات سے دیتا ہے۔۔۔۔انگلستان اور فرانس اور دیگر ممالک یورپ میں یہ الزام بڑی سختی سے اسلام پر لگایا جاتا ہے کہ وہ جبر کے ساتھ پھیلایا گیا ہے مگر افسوس اور سخت افسوس ہے کہ وہ نہیں دیکھتے کہ اسلاملا اکراہ فی الدین کی تعلیم دیتا ہے اور انہیں نہیں معلوم کہ کیا وہ مذہب جو فتح پا کر بھی گرجے نہ گرانے کا حکم دیتا ہے کیا وہ جبر کر سکتا ہے؟ مگر اصل 333