نُورِ ہدایت — Page 334
بات یہ ہے کہ ان ملانوں نے جو اسلام کے نادان دوست ہیں، یہ فساد ڈالا ہے۔انہوں نے خود اسلام کی حقیقت کو سمجھا نہیں اور اپنے خیالی عقائد کی بنا پر دوسروں کو اعتراض کا موقعہ دیا۔الحکم جلد 6 نمبر 16 مورخہ 30 را پریل 1902 صفحہ 6) اب تلوار سے کام لینا تو اسلام پر تلوار مارنی ہے، اب تو دلوں کو فتح کرنے کا وقت ہے اور یہ بات جبر سے نہیں ہو سکتی۔یہ اعتراض کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) نے پہلے تلوار اُٹھائی بالکل غلط ہے، تیرہ برس تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ صبر کرتے رہے پھر باوجود اس کے کہ دشمنوں کا تعاقب کرتے تھے مگر صلح کے خواستگار ہوتے تھے کہ کسی طرح جنگ نہ ہو۔اور جو مشرک قومیں صلح اور امن کی خواست گار ہوتیں ان کو امن دیا جاتا اور صلح کی جاتی اسلام نے بڑے بڑے پیچوں سے اپنے آپ کو جنگ سے بچانا چاہا ہے۔جنگ کی بنیاد کو خود خدا تعالی بیان فرماتا ہے کہ چونکہ یہ لوگ بہت مظلوم ہیں اور ان کو ہر طرح سے دکھ دیا گیا ہے اس لئے اب اللہ تعالیٰ اجازت دیتا ہے کہ یہ بھی ان کے مقابلہ پر لڑیں۔ور نہ اگر تعصب ہوتا تو یہ حکم پہنچتا کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ دین کی اشاعت کے واسطے جنگ کریں۔لیکن ادھر حکم دیا کہ ( لا احتراة في الدين یعنی دین میں کوئی زبردستی نہیں ) اور ادھر جب غایت درجہ کی سختی اور ظلم مسلمانوں پر ہوئے تو پھر مقابلہ کا حکم دیا۔البدر جلد اوّل نمبر 10 مورخہ 2 جنوری 1903 ، صفحہ 74) مذہبی امور میں آزادی ہونی چاہئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : لا إكراه في الدِّينِ کہ دین میں کسی قسم کی زبردستی نہیں ہے۔اس قسم کا فقرہ انجیل میں کہیں بھی نہیں ہے۔لڑائیوں کی اصل جڑھ کیا تھی؟ اس کے سمجھنے میں ان لوگوں سے غلطی ہوئی ہے۔اگر لڑائی کا ہی حکم تھا تو تیرہ برس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تو پھر ضائع ہی گئے کہ آپ نے آتے ہی تلوار نہ اٹھائی۔صرف لڑنے والوں کے ساتھ لڑائیوں کا حکم ہے۔اسلام کا یہ اصول کبھی نہیں ہوا کہ خود ابتدائے جنگ کریں۔لڑائی کا کیا سبب تھا؟ اسے خود خدا نے بتلایا ہے کہ ظلموا۔خدا نے جب دیکھا کہ یہ لوگ مظلوم ہیں تو اب اجازت دیتا ہے کہ تم بھی لڑو۔یہ نہیں حکم دیا کہ اب وقت تلوار کا 334