نُورِ ہدایت — Page 283
سے انسان مومن بنتا ہے اور یہی وہ ذریعہ ہے جس سے اللہ کا فضل نازل ہوتا ہے۔دیکھو یہی آیت جو میں نے پڑھی ہے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ذالِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِین۔یہ ایسی کتاب ہے۔جس میں کوئی شک نہیں ہے۔یعنی اس میں ایسی تعلیم ہے جو ہر ایک شک اور شبہ کو مٹانے والی ہے۔اس کے اختیار کرنے سے کسی قسم کا شک وشبہ نہیں رہتا۔یہ متقیوں کے لئے ہدایت ہے۔انہیں ایک سیدھا رستہ دکھاتی ، ایک نئے جہان میں لے جاتی اور ان پر روحانیت کا دروازہ کھول دیتی ہے۔اس سے آگے بتایا کہ متقی کون ہوتا ہے ؟ فرمایا: الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ ي شرطیں جب کسی میں پائی جائیں تو وہ متقی ہوتا ہے۔اور جب یہ شرطیں پائی جاتی ہیں تب قرآن روحانیت کی طرف راہ نمائی کرتا ہے۔وہ شرطیں یہ ہیں : (1) ایمان بالغیب (2) اقامتِ نماز (3) جو کچھ خدا نے دیا ہو اس میں سے خرچ کرنا (4) رسول کریم پر اور آپ سے پہلے نبیوں پر جو کچھ اترا اور جو آئندہ نازل ہوگا اس پر ایمان لانا۔ان شرطوں کو جو انسان پورا کر لیتا ہے اس پر روحانیت کا دروازہ کھل جاتا ہے۔لیکن جو ان کو اس طرح پورا نہیں کرتے ہیں جس طرح ان کے پورا کرنے کا حق ہے انہیں قرآن ہدایت نہیں کرتا۔یہی وجہ ہے کہ بہت لوگ قرآن پڑھتے ہیں مگر کہتے ہیں ہمیں کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔بات دراصل یہی ہے کہ قرآن اسی وقت ہدایت کرتا ہے جبکہ یہ شرائط پوری ہوں۔ان شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ نماز کو قائم کرنا اور جماعت کے ساتھ ادا کرنا۔بعض لوگ بے علمی اور نا واقفیت کی وجہ سے کہتے ہیں کہ جمعہ کی نماز باجماعت پڑھنا فرض ہے۔حالا نکہ بات یہ ہے کہ جمعہ کی نماز ایسی ہی فرض ہے جیسا کہ ساری نمازیں۔قرآن کریم میں جمعہ کی نماز کا اگر ایک جگہ ذکر آیا ہے تو روزانہ نمازوں کا ذکر متعد دجگہ آیا ہے۔پس جمعہ کی نماز دوسری نمازوں سے زیادہ فرض نہیں ہے لیکن لوگ لاعلمی کی وجہ سے سمجھتے نہیں اور صرف جمعہ کی نماز باجماعت ادا کرنا فرض جانتے ہیں۔حالانکہ قرآن کریم میں جہاں جہاں آقِیمُو الصَّلوةَ کا ذکر آیا ہے وہاں نماز با جماعت کا ہی حکم ہے۔حتی کہ ایک صحابی کے متعلق لکھا ہے کہ وہ 283