نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 224 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 224

انہیں اللہ تعالیٰ قرآن کریم کے ذریعہ سے ہدایت میں اور بھی بڑھاتا ہے اور ان کے مناسب حال تقویٰ انہیں عطا کرتا ہے۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ ہدایت اور تقویٰ کسی ایک مقام کا نام نہیں ہیں بلکہ ہدایت کے بھی مختلف مقامات ہیں اور تقویٰ کے بھی مختلف مقامات ہیں۔قرآن کریم ہدایت یافتوں کو ان کے مقام سے اوپر کے مقام ہدایت کی طرف راہنمائی کرتا ہے اور پھر اس مقام کے مناسب حال تقویٰ کا مقام اس شخص کو دیا جاتا ہے اور یہ سلسلہ لامتناہی ترقیات کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے۔اسی طرح فرماتا ہے وَالَّذِيْنَ جَاهَدُ وَافِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنكبوت 70) یعنی جولوگ ہماری محبت اور ہمارے وصال کے حصول کے لئے ہمارے بتائے ہوئے قواعد کے مطابق ( اس پر فینا کے الفاظ دلالت کرتے ہیں اور ان سے ایک مراد قرآن کریم ہے ) جد و جہد کرتے ہیں انہیں ہم یکے بعد دیگرے ان راستوں کا پتہ بتاتے چلے جاتے ہیں جو ہم تک پہنچنے والے ہیں۔اس آیت میں بھی اسی طرف اشارہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف ہدایت کے راستے محدود نہیں بلکہ ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا راستہ ہے۔اسی طرح فرماتا ہے نُورُ هُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَثْهِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِير (التحريم (9) یہ آیت ما بعد الموت زندگی کے متعلق ہے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ قیامت کو جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مومن جنت کی طرف جائیں گے تو ان کے ایمان و عمل کے نتیجہ میں پیدا شدہ نور ان کے آگے ہوگا اور وہ یہ کہتے جائیں گے کہ اے ہمارے رب ہمارے نور کو مکمل کر دے اور ہماری کمزوریوں کو ڈھانپ دے۔تو ہر شے پر قادر ہے۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہدایت صرف اسی دنیا میں نہیں بڑھتی بلکہ بعد الموت بھی ہدایت اور عرفان میں انسان ترقی کرے گا اور نئی طاقتیں اُسے ملتی جائیں گی۔خلاصہ یہ کہ ہدایت کے لفظ میں اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور دوسری آیات قرآنیہ اس کی مؤید ہیں کہ روحانی ترقیات غیر محدود ہیں اور قرآن کریم متقیوں کو ان اعلی ترقیات کی طرف بڑھا تا لئے جاتا ہے۔224