نُورِ ہدایت — Page 199
دوسری وجہ یہ کہ کتيبة لشکر کوبھی کہتے ہیں اور جیسے لشکر بہت سے افراد کو اپنے اندر جمع رکھتا ہے اسی طرح یہ کتاب بہت سے مضامین کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے۔اور جیسے لشکروں سے دشمن بھاگتے ہیں ایسے ہی شبہات انسانیہ اس کتاب کے لشکر سے بھاگ جاتے ہیں۔اس لئے فرمايا لا ريب فيه - یعنی یہ ایک ایسی عظیم الشان کتاب ہے جس کے عظیم الشان ہونے میں کچھ بھی شک نہیں یا جس میں کسی قسم کی کوئی شبہ والی بات نہیں۔پھر ذلك الكتاب میں جو فرمایا یہی ایک کتاب ہے۔تو اس سے ظاہر ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ نے کوئی اور کتاب نہیں دیکھی جس کو کتاب کہا جاسکے۔وَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ اور وہ لوگ جو اس (کلام الہی اور تمام اس وحی ) کے ساتھ ایمان لاتے ہیں جو تیری طرف نازل ہو ا ( اور یہ امراُن پر واضح ہونے سے کہ خدا کی صفت تکلم ہمیشہ سے ہے ) تجھ سے پہلے جو ( کلام الہی ) نازل ہوئی اس کو بھی مانتے ہیں اور اس صفت تکلم کو صرف تجھ تک ہی محدود نہیں کرتے اور پیچھے آنے والی ( کلام الہی ) پر بھی یقین رکھتے ہیں۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ بتلاتا ہے کہ متقی کی صفت ایک یہ بھی ہے کہ مکالمہ الہی پر اس کا ایمان ہوتا ہے اور وہ خدا کو کسی زمانہ ماضی، حال اور مستقبل میں گونگا نہیں مانتا۔خدا تعالیٰ کے اس صفت تکلم کا ذکر ایمان، اقام الصلوۃ اور انفاق رزق کے بعد اس لئے ضروری ہے کہ ان اعمال کا یہ تقاضا عملی طور پر ایک متقی کے واسطے ہونا چاہئے کہ آیا اس کی محنت خداشناسی کا کوئی راستہ اس کے واسطے صاف کر رہی ہے کہ نہیں؟ اور جس راہ پر میں نے قدم مارا ہے کیا اس پر دوسرے بھی قدم مار کر تستی یافتہ ہوئے ہیں کہ نہیں؟ تو اس کو یہ نظیر زمانہ ماضی، حال میں میلتی ہے جس سے آئندہ کے لئے اُسے یقینی حالت پیدا ہو جاتی ہے۔خدا تعالیٰ کی صفت تکلم کے بارے میں انسان کے تین گروہ ہیں۔(1) وہ جو سرے سے 199