نُورِ ہدایت — Page 188
ہے۔حکمت کے معنے ہیں شے بر محل داشتن۔پس مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ میں اسی امر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ محل اور موقع کو دیکھ کر خرچ کرو۔جہاں تھوڑا خرچ کرنے کی ضرورت ہے وہاں تھوڑ اخرچ کرو اور جہاں بہت خرچ کرنے کی ضرورت ہے وہاں بہت خرچ کرو۔الحکم جلد 5 مؤرخہ 10 اپریل 1901ء صفحہ 2 تا 4) ایک مرتبہ میں نے خیال کیا کہ صلوۃ میں اور دُعا میں کیا فرق ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے الصَّلوةُ هِيَ الدُّعَاءُ الصَّلوةُ مُخُ الْعِبَادَةِ یعنی نماز ہی دُعا ہے، نما ز عبادت کا مغز ہے۔جب انسان کی دُعا محض دنیوی امور کے لئے ہو تو اس کا نام صلوہ نہیں۔لیکن جب انسان خدا کو ملنا چاہتا ہے اور اُس کی رضا کو مد نظر رکھتا ہے اور ادب، انکسار، تواضع اور نہایت محویت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور میں کھڑا ہو کر اس کی رضا کا طالب ہوتا ہے تب وہ صلوۃ میں ہوتا ہے۔اصل حقیقت دُعا کی وہ ہے جس کے ذریعہ سے خدا اور انسان کے درمیان رابطہ تعلق بڑھے۔یہی دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ ہوتی ہے اور انسان کو نامعقول باتوں سے ہٹاتی ہے۔اصل بات یہی ہے کہ انسان رضائے الہی کو حاصل کرے۔اس کے بعد روا ہے کہ انسان اپنی دنیوی ضروریات کے واسطے بھی دُعا کرے۔یہ اس واسطے روا رکھا گیا ہے کہ دنیوی مشکلات بعض دفعہ دینی معاملات میں بارج ہو جاتے ہیں۔خاص کر خامی اور پچ پنے کے زمانہ میں یہ امور ٹھو کر کا موجب بن جاتے ہیں۔صلوۃ کا لفظ پُر سوز معنے پر دلالت کرتا ہے جیسے آگ سے سوزش پیدا ہوتی ہے۔ویسی ہی گدازش دُعا میں پیدا ہونی چاہیئے۔جب ایسی حالت کو پہنچ جائے جیسے موت کی حالت ہوتی ہے تب اُس کا نام صلوۃ ہوتا ہے۔( بدر جلد 1 نمبر 8 مؤرخہ 25 رمئی 1905 ، صفحہ 4) صلوۃ کا لفظ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ تیرے الفاظ اور دُعا ہی کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ضروری ہے کہ ایک سوزش رقت اور درد ساتھ ہو۔خدا تعالیٰ کسی دُعا کو نہیں سنتا جب تک دُعا کرنے والا موت تک نہ پہنچ جاوے۔دُعا مانگنا ایک مشکل امر ہے اور لوگ اس کی حقیقت سے محض ناواقف ہیں بہت سے لوگ مجھے خط لکھتے ہیں کہ ہم نے فلاں وقت فلاں امر کے لئے 188