نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 160 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 160

سورۃ البقرہ کی ابتدائی سترہ آیات کے حوالہ سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض ارشادات درج ذیل ہیں۔اس سورۃ ( البقرہ : ناقل ) میں حقوق اللہ اور حقوق العباد کی بہت تفصیل ہے اور امر اور نہی کھول کر بیان کیا گیا ہے اور صبر اور ایثار کی بہت تاکید ہے۔( مکتوبات جلد پنجم نمبر پنجم صفحہ 150 ) سورۃ البقرہ کی آیت دو اور تین کے تحت آپ نے فرمایا: جب تک کسی کتاب کے عِلل اربعہ کامل نہ ہوں وہ کتاب کامل نہیں کہلا سکتی اس لئے خدا تعالیٰ نے ان آیات میں قرآن شریف کے علل اربعہ کا ذکر فرما دیا ہے۔اور وہ چار ہیں۔( 1 ) علت فاعلی (2) علت مادی (3) علت صوری (4) علتِ غائی۔اور ہر چہار کامل درجہ پر ہیں۔پس اللہ علت فاعلی کے کمال کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کے معنی ہیں: انا اللہ اعلم یعنی کہ میں جو خدائے عالم الغیب ہوں میں نے اس کتاب کو اُتارا ہے پس چونکہ خدا اس کتاب کی علت فاعلی ہے اس لئے اس کتاب کا فاعل ہر ایک فاعل سے زبر دست اور کامل ہے۔اور علت مادی کے کمال کی طرف اشارہ کرتا ہے یہ فقره که ذلك الكتب یعنی یہ وہ کتاب ہے جس نے خدا کے علم سے خلعت وجود پہنا ہے اور اس میں کچھ شک نہیں کہ خدا تعالیٰ کا علم تمام علوم سے کامل تر ہے اور علتِ صوری کے کمال کی طرف اشارہ کرتا ہے یہ فقرہ لا ريب فيه - یعنی یہ کتاب ہر ایک غلطی اور شک و شبہ سے پاک ہے اور اس میں کیا شک ہے کہ جو کتاب خدا تعالیٰ کے علم سے نکلی ہے وہ اپنی صحت اور ہر ایک عیب سے مبرا ہونے میں بے مثل و بے مانند ہے اور لاریب ہونے میں اکمل اور اتم ہے 160