نُورِ ہدایت — Page 1182
کہ اگر عورت سے مصافحہ نہیں کرتے تو عورت کے حق نہیں ادا کئے۔سویڈن میں مجھ سے کسی اخباری نمائندے نے کہا۔میں نے کہا دنیا میں بہت سارے اور بڑے مسائل ہیں۔اگر تمہارے خیال میں تمہاری قوم کی ترقی ، ملک کی ترقی اور دنیا کے فسادصرف عورت سے مصافحہ کر کے ہی حل ہو سکتے ہیں تو پھر ثابت کر کے دکھاؤ یہاں تم کتنا فائدہ اٹھا رہے ہو۔یا صرف عورت کی عزت مصافحہ کرنے میں ہی ہے؟ اسلام کی جو تعلیم ہے ہم مسلمان اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔تم لوگ مذہب سے ہٹے ہوئے ہو اس لئے اس سے دُور جا ر ہے ہو۔پھر شیطانی فتنہ آجکل جو زوروں پر ہے ہم جنسی کی باتیں کرتے ہیں۔یہ بھی خناس ہے، شیطان ہے جو مختلف طریقوں سے وسوسے پیدا کرتا ہے۔سویڈن میں ایک جگہ ریسپشن (reception) تھی تو جب میں نے اس کے خلاف بات کی تو وہاں کی پارلیمنٹ کے ممبروں نے فیصلہ کیا کہ ہم فنکشن میں شامل نہیں ہوں گے۔میں نے کہا بیشک نہ شامل ہوں۔جو اسلام کی تعلیم ہے اور نہ صرف اسلام کی تعلیم بلکہ ہر مذہب کی تعلیم ، بائبل اس پر سب سے زیادہ بولتی ہے، اس کے خلاف جو کام ہو گا وہ ہم نہیں کریں گے۔لیکن بہر حال اس کے باوجود چند ایک لوگ تو نہیں آئے یا اس پارٹی کے لوگ نہیں آئے جن کا خیال تھا کہ ہماری حکومتیں صرف اسی شیطانی کام کی وجہ سے بچی ہوئی ہیں ، ان کے علاوہ اکثر لوگ آئے اور بڑا کامیاب ہوا۔تو بہر حال ہم نے، جماعت احمدیہ کے ہر ممبر نے ، ہر احمدی نے یہ کوشش کرنی ہے کہ شیطان کے جو فتنے ہیں، قانون بنا کے یا مختلف اور طریقوں سے وسوسے ڈالنے والے ہیں، ہر ذریعہ سے اس کے خلاف قدم اٹھانا ہے اور اس روحانی روشنی کو دنیا میں پھیلانا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ سے آئی ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ میں یہ دعا سکھلائی ہے کہ تم اس شیطان سے بچنے کی دعا کرو اور بجائے دنیاوی طریقوں کو اختیار کرنے کے روحانیت میں بڑھنے کی کوشش کرو۔بجائے ان بادشاہوں کے غیر اسلامی قوانین کی حمایت کرنے کے، اور ان سے ڈرنے کے بجائے کھل کر 1182