نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 105 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 105

سیکھنے کی بجائے اپنی رائے کے تابع ہوئے۔الضَّالّين: راستہ سے بہک جانے والے۔بے جا محبت کرنے والے بے علم۔حضرت مسیح موعود نے اس کے معنے گم ہو جانے والے کے کئے ہیں کیونکہ یہ لوگ آخر اسی سلسلہ میں گم ہو جائیں گے۔اور اس مضمون پر دلیل یہ آیت قرآنی ہے ضَلَلْنَا فِي الْأَرْضِ (سجده آیت 11) البدر 16 جنوری 1903ء) ضالین: ان کے دونشان ہیں۔1۔الہیات کا علم نہ ہو۔مَالَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ وَلَا لاباءهم (كهف 6) 2 کسی سے بے جا محبت۔جیسے نصاری۔مضالین میں چونکہ شنڈ و مڈ ہے اس میں بتایا کہ ان کا زمانہ لمبا اور مضبوط ہوگا۔( تشحیذ الا ذبان ماہ ستمبر 1913ء) ہم نے تین دعائیں الحمد میں کی ہیں۔منظم علیہ بنیں۔مغضوب علیھم اور صال نہ بنیں۔ہر سہ خدا نے قبول کی ہیں۔انعام ان پر ہوا جو متقی ہیں۔مغضوب بے ایمان منکر ہیں جن کو وعظ کرنانہ کرنا برا بر ہو۔ضالین منافق لوگ ہیں۔ہر سہ کا ذکر الحمد میں ہے۔پھر ترتیب وار ہر سہ کا ذکر سُورۃ بقرہ کے ابتدا میں ہے۔یہ قرآن شریف کی ترتیب کا ایک نمونہ ہے۔(ماخوذ از حقائق الفرقان ) حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سورۃ کے معنی عربی زبان میں مندرجہ ذیل ہیں۔( بدر 23 رمئی 1912 ، صفحہ 3) (1) مَنْزِلَةٌ یعنی درجہ (2) شَرَف یعنی بزرگی بڑائی (3) عَلامَةٌ یعنی نشان (4) اونچی دیوار یا عمارت جو خوبصورت بھی ہو۔( اقرب) (5) یہ لفظ سُورۃ سے بھی ہو سکتا ہے یعنی اس میں ہمزہ ہے جو ما قبل مضموم کی وجہ سے واؤ 105