نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1119 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1119

ذرہ سے حتی کہ اپنے نفس سے بھی ڈرتا ہے اور اس کے شر سے پناہ مانگتا ہے۔پھر یہی نہیں کہ مومن اپنے ایمان کے متعلق ڈرتا ہے کہ ایسا نہ ہو میرے دل میں تکبر پیدا ہو جائے اور میں مارا جاؤں بلکہ وہ قرب الی اللہ سے بھی ڈرتا ہے کیونکہ یہ بھی ہلاکت کا موجب بن جاتا ہے جیسے کہ بلغم کے لئے ہو گیا تھا۔۔۔۔پس مِن شَرِّ مَا خَلَقَ سے بتایا کہ انسان کو ہر ذرہ سے ڈرنا چاہئے اور چونکہ انسان کو علم نہیں ہوتا کہ کونسی چیز اس کی ہلاکت کا باعث ہوسکتی ہے اس لئے ان اشیاء کے پیدا کرنے والے خدا سے ہی پناہ مانگنی چاہئے۔الفلق کے پانچویں معنے اس لکڑی کے ہیں جس میں مجرموں کو قطار میں کھڑا کیا جاتا ہے۔پس ان معنوں کے اعتبار سے اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَرِ مَا خَلق کے یہ معنے ہوں گے کہ میں قید خانوں کے مالک کی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ ایسا نہ ہو کہ میں قید خانے میں پڑ جاؤں اور اس کی شدائد اور مشکلات مجھے برداشت کرنی پڑیں۔گویا اس میں قومی لحاظ سے بھی دعا سکھائی گئی ہے اور فردی لحاظ سے بھی۔یعنی ایسا نہ ہو کہ ہماری قوم آپس میں لڑ پڑے۔اور ایک دوسرے کو قید خانوں میں ڈال کر شدائد میں مبتلا کر دے۔یا ایسا نہ ہو کہ کوئی مخالف حکومت اٹھے اور اسلامی حکومت کو برباد کر دے اور مسلمانوں کو قید و بند کی مشکلات سے دو چار ہونا پڑے اور مسلمانوں کا آرام ختم ہو جائے۔اسی طرح فردی لحاظ سے یہ دعا سکھائی کہ تمہیں دعا کرنی چاہئے کہ تم دانستہ یا نا دانستہ کوئی ایسی بات نہ کر بیٹھو جس سے تمہیں قید و بند کی مشکلات سے دوچار ہونا پڑے۔الفلق کے چھٹے معنے اُس دودھ کے ہیں جو دودھ پینے کے بعد پیالے کے آخر میں تھوڑ اسا بچ جاتا ہے۔ان معنے کے اعتبار سے قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ کا یہ مفہوم ہوگا کہ اے خدا تو نے مجھے وہ کامل تعلیم قرآن کریم کے ذریعہ سے دی ہے جو اس پیالہ کی مانند ہے جو دودھ سے بھرا ہوا ہو۔ایسا نہ ہو کہ کسی وقت میری کمزوریوں کی وجہ سے میرے پاس اس تعلیم میں سے تھوڑا سا حصہ رہ جائے اور روحانی طور پر امیر ہونے کے بعد میں غریب 1119