نُورِ ہدایت — Page 1118
چوتھے معنے الفلق کے دو پہاڑیوں کے درمیان کے میدان کے ہوتے ہیں۔بعض اقوام ایسی ہیں جو افراط کی طرف چلی گئی ہیں اور بعض تفریط کی طرف لیکن اللہ تعالیٰ کے حصول اور دنیا میں امن و امان کا اصل طریق میانہ روی ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اُمتِ وسط قرار دیا ہے کہ ان کی تعلیم میں نہ افراط پایا جاتا ہے اور نہ تفریط۔اور جو ایسی تعلیم ہو وہ اعلیٰ درجہ کی ہوگی اور اس سے دنیا میں امن پیدا ہو گا۔تو فرما یا قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَرِ مَا خلق۔کہ اے مسلمانو! کہو ہم اس رب کی پناہ چاہتے ہیں جس نے افراط اور تفریط کی دو پہاڑیوں کے درمیان اسلام جیسا خوبصورت میدان بنایا ہے۔جہاں دنیا کو چین اور آرام حاصل ہوسکتا ہے۔گویا ان آیات میں بتایا ہے کہ تم اس خدا کی پناہ چاہو جس نے اسلام جیسے بہترین مذہب کو بھیجا، جس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا کامل انسان بھیجا اور جس کے ذریعہ سے تم کو قرآن جیسی کامل تعلیم ملی۔تم اس بات سے پناہ چاہو کہ تمہارے لئے کوئی شر پیدا نہ ہو جائے۔یعنی ایسا نہ ہو کہ کسی وقت کوئی ایسا شر پیدا ہوجس کی وجہ سے تم اللہ تعالیٰ کی بہترین تعلیم سے علیحدہ ہو جاؤ۔اسلام کو چھوڑ دو اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن سے کنارہ کشی کرلو جس کا نتیجہ یہ ہو کہ تم مشکلات میں مبتلا ہوجاؤ اور تمہاری زندگی تمہارے لئے مشکل ہو جائے۔ا اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ کہ کر اس طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ تک پہنچنے اور اس کی ربوبیت سے فیض پانے کا صحیح طریق میانہ روی ہے۔نہ انسان افراط کو اختیار کر کے اللہ تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے اور نہ تفریط والے راستے کو اختیار کر کے۔ہاں اگر میانہ روی کو اختیار کرتا ہے تو خدا تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے لیکن اس تک پہنچنے میں بہت سی روکیں ہیں۔۔۔۔اس لئے کامیابی کا حقیقی خواہاں وہی ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ کے حضور گرتا ہے اور کہتا ہے اعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَق - اے خدا مجھے معلوم نہیں کہ میرے راستہ میں ہلاکت اور رکاوٹیں کہاں کہاں سے آرہی ہیں۔اس لئے اسے خدا جو خالق ہے تمام چیزوں کا ان کے شر سے مجھے بچا۔کیونکہ ان کے شر کا تجھے ہی پتہ ہے۔پس یہ ترقی کا پہلا زینہ ہوتا ہے کہ انسان ہر 1118